نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2024 جاری کر دی ہے، جس میں بجلی کمپنیوں کے مالی نتائج پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں بجلی کی کمپنیوں نے نقصانات کم کرنے اور وصولیوں میں اضافہ کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کمپنیاں گزشتہ سال کی نسبت 590 ارب 51 کروڑ روپے کے نقصان میں رہی ہیں۔ نقصانات میں اضافے اور وصولیوں میں کمی کی وجہ سے یہ رقم ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اس دوران بجلی کمپنیوں کے نقصانات کی شرح 31.18 فیصد رہی، جبکہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی وصولیوں کی شرح 44.92 فیصد رہی۔
رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے نقصانات کی وجہ سے گردشی قرضوں میں 276 ارب روپے کا اضافہ ہوا، اور وصولیوں میں کمی کی وجہ سے اس میں مزید 314 ارب 51 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
نیپرا نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا کہ مالی سال 2023-24 میں بجلی صارفین نے صرف 88.33 فیصد بجلی استعمال کی، جو کہ پیداوار سے کم رہی۔
اس کے باوجود سسٹم کی ناکامیوں اور کمپنیوں کی عدم کارکردگی کی وجہ سے بجلی صارفین پر اضافی ٹیکسز، سرچارجز اور کراس سبسڈیز کا بوجھ ڈالا گیا۔
نیپرا نے اپنی رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی کہ فیڈرز بند کرنے کی بجائے نادہندگان کے خلاف سخت کارروائیاں کی جانی چاہئیں تاکہ وصولیوں کی شرح میں اضافہ ہو اور گردشی قرضے میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، سسٹم کی نااہلی سے بچنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
رپورٹ میں مجموعی طور پر پاور سیکٹر میں نظام کی بہتری اور مالی استحکام کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں نقصانات میں کمی آ سکے اور بجلی صارفین پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔



















