ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی اور تربیتی پروگرام جاری ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے ماورائے علاقہ و ماورائے عدالت قتل عام کی بات کی ہے، اب یہ معاملہ عالمی سطح پر پھیل چکا ہے، کئی ممالک نے اس حوالے سے ہمارے موقف کی تائید بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی اور تربیتی پروگرام جاری ہیں، پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے، پاکستانی عوام، افواج اپنی قومی سالمیت اور سیکیورٹی کو درپیش خطرات کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بار بار کہا ہے کہ گوادر کی بندرگاہ غیر ملکی حکومتوں اور افواج کے لیے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے لیے ہے، واخان اور افغانستان میں پاک فوج کے داخلے کی خبریں درست نہیں ہیں۔
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی سالمیت و خود مختاری کا احترام کرتا ہے، پاکستانی حکومت شام کی صورتحال کا ایک حل تلاش کرنے کی حامی ہے، شام کا مستقبل شامی عوام کی خواہشات کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے، ہم شام کی نئی قیادت سے براہ راست رابطے میں نہیں ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز دہشتگرد گروہوں و اکائیوں کے خلاف اپنے سرحدی علاقوں میں آپریشنز کرتی رہتی ہیں، پاکستان ریفیوجی کنوینشن 1951 پر دستخط کنندہ نہیں ہے، تاہم پاکستان نے مہاجرین کی میزبانی کے حوالے سے کھلے دل کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ روز سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے، یہ ہمارا آٹھواں دورانیہ ہے، پاکستان غیر قانونی طاقت کے استعمال، تنازعات کے بات چیت سے حل پر یقین رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دیگر غیر مستقل اراکین کے ساتھ مل کر کام کرنے پر یقین رکھتا ہے، ہم افغانستان کی حکومت اور عوام اور ان کے کسی ملک کے ساتھ باہمی تعلقات و ترقیاتی کاموں کے حق کا احترام کرتے ہیں۔



















