Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مذاکرات کا دوسرا دور؛ پی ٹی آئی نے حکومت سے چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے وقت مانگ لیا

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہوگیا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت حکومت اوراپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں شریک شرکاء کا اسپیکر قومی اسمبلی نے خیرمقدم کیا۔

پی ٹی آئی کمیٹی کے سربراہ عمر ایوب خان اور دیگر اراکین نے تفصیل سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سمیت پارٹی کے لیڈرز اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو ضمانتوں کے حصول میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشنل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تا کہ حقائق پوری طرح سامنے آسکیں۔

پی ٹی آئی کمیٹی نے آگاہ کیا کہ تحریری طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ ز پیش کرنے کے لئے ہمیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان صاحب سے ملاقات، مشاورت اور رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے یہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے لہٰذا اسے مثبت طریقے سے جاری کرنے کے لئے ان کی ہدایات بہت ضروری ہیں۔

پی ٹی آئی کمیٹی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت اور رہنمائی کے بعد اگلی میٹنگ میں چارٹر آف ڈیمانڈ باقاعدہ تحریری شکل میں پیش کردیا جائے گا۔

حکومتی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار صاحب نے کہا کہ گزشتہ میٹنگ میں کیے گئے فیصلے کے تحت ہمیں توقع تھی کہ آج پی ٹی آئی تحریری طور پر اپنے مطالبات پیش کرے گی تاکہ مذاکرات کا کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ پی ٹی آئی کمیٹی بانی پی ٹی آئی سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ ز لائے تا کہ دونوں کمیٹیاں معاملات کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھا سکیں۔

اجلاس میں یہ طے پایا ہے کہ پی ٹی آئی کمیٹی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد اگلے ہفتے دونوں کمیٹیوں کی تیسری نشست کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔

سردار ایاز صادق

اس سے قبل مذاکراتی کمیٹی کے دوسرے اجلاس کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج ہماری مذاکراتی کمیٹی کا دوسرااجلاس ہے، پہلی کمیٹی میں ہمارے کچھ ساتھی موجود نہیں تھے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پہلی مذاکراتی کمیٹی بہت اچھے اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی تھی جب کہ پہلی کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آنے والے امور پر عمل درآمد کیا گیا۔

ایاز صادق کہتے ہیں کہ میرا کردار بطور ایک سہولت کار ہے، امید ہے کمیٹی میں شریک فریقین مذاکرات کو مثبت انداز میں چلائیں گے، میری کوشش ہے کہ ملک کو درپیش اہم ایشوز کو بھی کمیٹی میں زیر غور لایا جائے۔

اسپیکر کا کہنا تھا کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور پاکستان کے مسائل کوحل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ملک کے مسائل کے حل کے لیے سب کو مل کرکردار ادا کرنا ہوگا۔

اجلاس کے اختتام پر انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کا تیسرا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا اور آئندہ اجلاس میں معیشت و دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق بھی بات ہوگی، مذاکراتی عمل سے تلخی اور تناؤ میں کمی آئے گی، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے مثبت تجاویز دی ہیں۔

ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ کمیٹی میں اپوزیشن نے اپنے مطالبات پیش کیے، کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے جب کہ اجلاس میں پاکستان کے مفاد کو اہم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سینیٹر عرفان صدیقی

سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس ہوا، پی ٹی آئی ارکان نے تفصیل سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ پی ٹی آئی ارکان نے کہا بانی نے مذاکرات کی اجازت دی ہے۔

سینیٹر نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے وقت مانگا ہے جب کہ اپوزیشن نے کہا بانی سے مشاورت کے بعد چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کریں گے، پی ٹی آئی نے بانی سمیت کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

عرفان صدیقی نے مزید بتایا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جب کہ طے پایا ہے کہ بانی سے ملاقات کے بعد اگلی میٹنگ کی تاریخ طے ہوگی، اسحاق ڈار نے کہا پی ٹی آئی کمیٹی کی بانی سے ملاقات پر اعتراض نہیں۔

علی امین گنڈاپور

دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اجلاس کے اختتام کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کارکنان نے جمہوریت کے لئے خون بہایا اور کارکنان حقیقی آزادی کے لئے شہید ہوئے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ جب مذاکرات کے لئے کمیٹی بنی ہے تو لگتا ہے وہ مسائل کا حل چاہتے ہیں، میں بیک ڈور والا نہیں، کھلی کتاب ہوں۔ کرم کے واقعات آج کے نہیں 50 سال سے چلے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرم کے معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا اور اچھی بات ہے کہ 9 مئی کے ملزمان کو رہا کیا گیا کیونکہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔

علی امین گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ بیٹھ کر جمہوری طریقے سے معاملات کو حل کرنا چاہیے، مذاکرات بانی چیئرمین کے حکم پر شروع ہوئے ہیں اور مذاکرات کیسے کرنے ہیں بانی چیئرمین ہی فیصلہ کریں گے۔

متعلقہ خبریں