Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی کے طلبہ و طالبات کو 1973 سے کوٹہ سسٹم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، فاروق ستار

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 70 کی دہائی میں کراچی میں کوٹہ سسٹم آیا تھا اس شہر کے طلبہ و طالبات کو 1973 سے کوٹہ سسٹم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے عارضی مرکز بہادر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سولہ سالوں سے سندھ میں ایک کرپٹ ترین حکمرانی کا سلسلہ جاری ہے، بد ترین نا اہلی کے تمام ریکارڈ موجود سندھ حکومت نے توڑ دیے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جب بغداد پر قبضہ ہوا تھا وہ وہاں کے کتب خانوں اور تعلیمی درس گاہوں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا، حکومت سندھ اسی فارمولے پر کار بند ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہری سندھ کے طلبہ و طالبات کا بیڑہ غرق کیا گیا، جو لوگ طاقتور تھے وہ اور طاقتور ہو گئے، کراچی کے امتحانی بورڈ کو تباہ و برباد کر دیا گیا، کراچی کے طلبہ و طالبات کے مستقبل کو تاریک کیا جا رہا ہے۔

 ڈاکٹر فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے نوجوانوں پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں، کراچی کے میٹرک اور انٹر بورڈ کے نتائج کی شرح کو کم کیا جا رہا ہے، جبکہ اندرون سندھ کے میٹرک اور انٹر بورڈ کے نتائج کی شرح کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔

 ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں پری میڈیکل کے 33 فیصد طلبہ و طالبات پاس ہوئے، 67  فیصد طلبہ و طالبات کو فیل کیا گیا، بچوں کے والدین اسکروٹنی کروائیں گے آمدنی کے ذرائع بڑھائے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ لاڑکانہ کے بورڈ سے اے ون گریڈ میں کامیاب ہونے والے بچے کیا کریں گے، کراچی کے 71  فیصد بچے پری انجینئرنگ اور 67 فیصد بچے میڈیکل میں فیل ہوئے، یہ چنگیز خانی سوچ ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ بورڈ کے بچے 80 فیصد پاس ہوئے یہ کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ کراچی میں خواندگی شرح سب سے زیادہ ہے، کراچی میں خواندگی کی سب سے زیادہ شرح ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ہے۔

 ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہمارے بچے اسکول کے امتحانوں میں اچھے نمبر سے پاس ہوئے، اب ہمارے بچے کامیابی حاصل کرنے کے لیے یا تو رجسٹریشن لاڑکانہ اور میرپور خاص سے کروائیں یا ضیاء الدین بورڈ سے رجوع کریں، لاڑکانہ، میر پور خاص اور سکھر بورڈ کے کنٹرولر نا اہل لگائے گئے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی اور لاڑکانہ کے بورڈز کی پرسنٹیج میں واضح فرق آرہا ہے اس پر تو وزیر اعلیٰ کو اخلاقاً استعفیٰ دے دینا چاہیے، کل انہوں نے انٹر بورڈ کے چیئرمین امیر قادری کو ہٹایا تو میٹرک بورڈ کے شرف الدین کو لگا دیا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ان کے پاس کوئی آدمی میرٹ پر لگانے کے لیے موجود نہیں سارے نظام میں سیاست کی جارہی ہے، تعلیمی نظام میں پنجاب، کے پی کے سندھ سے آگے نکل چکا ہے، ہمارے بچے اسی وجہ سے ایم ڈی کیٹ میں بھی داخلہ نہیں  لے پائے۔

انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ میں 100 میں 73 فیصد بچے پاس ہوئے ہیں، کراچی میں انجینئرنگ ٹیسٹ میں 67 بچے ہمارے پاس ہوئے، این ای ڈی والے کہہ رہے ہیں داخلہ ٹیسٹ میں لاڑکانہ کے 21 فیصد پاس ہوئے، کہاں گئے اے ون گریڈ والے وہاں کے بچے، انٹربورڈ کے چیئرمین کو اس لیے عہدے سے ہٹایا گیا وہ بغیر بتائے برطانیہ چلے گئے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر امین الحق صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر علی خورشیدی سمیت دیگر شریک تھے۔

متعلقہ خبریں