وزیراعظم شہباز شریف نے لیسکو میں کرپشن میں نکالے گئے متعدد افسران کی غیر قانونی بحالی کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق اس حوالے سے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو دس روز میں تحقیقات کر کے رپورٹ دے گی، جبکہ ہائی ہاور کمیٹی نے لیسکو مینجمنٹ سے الزامات پر جواب بھی طلب کرلیا ہے۔
نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا کہ کمیٹی میں سابق سیکرٹری پاور شاہد خان موجودہ سیکرٹری انرجی پاور آئی بی اور لیسکو بورڈ کے نمائندے شامل ہیں، جبکہ لیسکو مینجمنٹ پر پیسے لیکر 12 افسران کی بحالی، اس کے علاوہ بین الاقوامی کمپنی سے سامان کی خریداری کا الزام ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق خیابان امین سوسائیٹی کو غیر قانونی کنکشن دیا گیا، جبکہ لیسکو معاملات میں قوانین کو نظرانداز کرنا بھی شامل ہے، اس کے علاوہ سابق چیف ایگزیکٹو چوہدری آمین کی تعیناتی بھی خلاف قانون کی گئی۔
ذرائع انرجی ڈویژن کے مطابق کمیٹی نے موجودہ چیف، لیسکو چیئرمین بورڈ اور دیگر افسران کو کل اسلام آباد بلا لیا ہے، جبکہ ان افسران کے بیانات کے بعد کمیٹی حتمی روپورٹ 10 جنوری تک وزیراعظم کو بھجوا دے گی۔



















