اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف لیے گئے حالیہ اقدامات پر ایف آئی اے کو سراہا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف لیے گئے اقدامات، سہولت کاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی پیش رفت اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انسانی اسمگلروں کے سہولت کار سرکاری افسران کے خلاف حالیہ تادیبی کارروائیوں کا آغاز خوش آئند ہے، سہولت کاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کے بعد سخت تعزیری اقدامات بھی لیے جائیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں تمام انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ وہ نشان عبرت بنیں۔ انسانی اسمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کے لئے فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام افراد کے خلاف استغاثہ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے اور استغاثہ کے لیے وزارت قانون و انصاف سے مشاورت کے بعد اعلیٰ ترین درجے کے وکلاء تعینات کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ بیرون ملک سے انسانی اسمگلنگ کا دھندہ چلانے والے پاکستانیوں کے لیے متعلقہ ممالک سے رابطہ کرے اور ان کی پاکستان حوالگی کے حوالے سے جلد از جلد اقدامات اٹھائے۔
شہباز شریف کہتے ہیں کہ وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت داخلہ کے تعاون سے عوام میں بیرون ملک نوکریوں کے لیے صرف قانونی راستے اختیار کرنے کی آگاہی مہم چلائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایسیٹیکنیکل ٹریننگ اداروں کی ترویج کی جائے جو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق سرٹیفائیڈ پیشہ ور افراد بیرون ملک مارکیٹ کو فراہم کرسکیں، جب کہ ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے افراد کی اسکریننگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے۔



















