Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

الیکشن کمیشن کا سینٹر سیف اللہ ابڑو کی نااہلی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینٹر سیف اللہ ابڑو کی نااہلی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی نااہلی کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

درخواست گزار سینیٹر شہادت اعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر سیف اللہ ابڑو کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست میں کہا گیا کہ میرے موکل کا ٹیکنوکریٹ نشست کیلئے تجربہ مکمل نہیں تھا، سیف اللہ ابڑو انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ ہیں۔

وکیل نے بتایا کہ تعلیمی اسناد اور انجینئرنگ کونسل کی دستاویز الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی ہیں، میرے موکل درکار کم سے کم 20 سال کے تجربہ کے حامل ہیں۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو ٹیکنوکریٹ نشست کے اہل نہیں ہیں، سیف اللہ ابڑو کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے، ان کے پاس تجربہ ہے نہ ہی کوئی اچیومنٹ۔ شہادت اعوان

ممبر سندھ نے استفسار کیا کہ کیا انجینئرنگ کونسل کا صدر منتخب ہونا اچیومنٹ نہیں ہے، شہادت اعوان نے بتایا کہ انجینئرنگ کونسل کا صدر بننا کوئی کارنامہ نہیں ہے۔

ممبر بلوچستان نے کہا کہ ایک کنٹریکٹر کیلئے کیا اچیومنٹ ضروری ہے، جس پر شہادت اعوان نے کہا کہ اگر انہوں نے کوئی میڈل یا ایوارڈ بھی جیتا ہوتا تو ہم اسے اچیومنٹ کہ سکتے تھے، سیف اللہ ابڑو کو نااہل کیا جائے۔

وکیل صفائی نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو کی کنسٹرکشن کمپنی نے 20 ارب روپے سے زائد کے منصوبے مکمل کیے، ٹیکنوکریٹ نشست کی اہلیت کے لیے اتنی اچیومنٹ کافی ہے۔

بعدازاں الیکشن کمیشن نے سینٹر سیف اللہ ابڑو کی نااہلی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

واضح رہے کہ سیف اللہ ابڑو کی نااہلی کے لیے پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان اور ماجد محمود نے درخواستیں دائر کی تھیں۔

متعلقہ خبریں