انچارج کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ایس پی راجہ عمر خطاب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
انچارج سی ٹی ڈی ایس پی راجہ عمر خطاب سمیت ڈی ایس پی ایس پی یو راجہ فرخ یونس کو بھی عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں آفسران کو سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کیس کے مرکزی ملزم سی ٹی ڈی اہلکار علی رضا سمیت 7 ملزمان فرار ہیں جنکی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔
سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ارسلان نامی شہری کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 40 ہزار ڈالر حارث نامی لڑکے کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے تھے۔
اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ابتک 8 ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں، مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب ڈی ایس پی سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ شہری کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے تمام معاملے سے میرا کوئی تعلق نہیں، معاملہ علم میں آنے کے بعد میں تحقیقات شروع کردی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ تین جنوری کو سی ٹی ڈی اہلکار علی رضا کے خلاف مس کنڈیکٹ رپورٹ لکھی تھی، ابتدائی انکوائری میں علی رضا واردات میں ملوث پایا گیا۔
راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ علی رضا کی گرفتاری کیلیے ٹیمیں بھی روانہ کیں، علی رضا کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی کوشش جاری رکھی۔



















