خیرپور پولیس کی جانب سے 5ویں جماعت کے طلبہ پر جھوٹا مقدمہ درج کیے جانے کا انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر ڈی آئی جی سکھر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی اوباڑو حافظ عبدالقادر سومرو کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا ہے۔
انکوائری آفیسر کو دو دن میں اپنی رپورٹ ڈی آئی جی سکھر کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نئے سال کی رات، خیرپور کی مل کالونی چوکی کے انچارج عبدالجبار پہلپوٹو نے 10 سالہ عدنان اور 11 سالہ کاشف شاہ کے خلاف فائرنگ کا جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ اقدام پولیس کی مبینہ زیادتی اور رشوت خوری کے ایک اور کیس کے طور پر سامنے آیا ہے۔
متاثرہ بچوں کی والدہ نے پولیس کی جانب سے جھوٹے مقدمے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے خیرپور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ چوکی انچارج عبدالجبار پہلپوٹو نے ان سے 4 لاکھ روپے رشوت طلب کی، اور رقم نہ دینے پر ان کے معصوم بچوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔
والدہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ایک بیٹے کا دماغی توازن بھی درست نہیں ہے، اور پولیس کا یہ اقدام سراسر زیادتی اور ظلم کے مترادف ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مل کالونی چوکی انچارج عبدالجبار پہلپوٹو کو ڈی آئی جی سکھر پہلے ہی جعلی پولیس مقابلوں کے الزامات کے تحت حراست میں لے چکے ہیں، اور عدالت نے انہیں جیل بھیج دیا ہے۔
ان کے خلاف کئی شکایات موصول ہو چکی ہیں، جن میں بے گناہ شہریوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنا اور رشوت طلب کرنا شامل ہے۔
متاثرہ بچوں کے والدین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور معصوم بچوں کو انصاف فراہم کریں۔ ساتھ ہی، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو قانون کی آڑ میں شہریوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔



















