لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ چوروں کا ٹبر احتساب سے زیادہ دیر نہیں بھاگ سکتا۔
عظمیٰ بخاری نے بیرسٹر سیف کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ فیصلہ کا راگ الاپنے والوں کا پورا ٹبر عدالت سے غائب ہے، جج دو گھنٹے چوروں کے ٹبر کا انتظار کرتے رہے لیکن موصوف اپنے سیل سے کمرہ عدالت میں نہ پہنچ سکے۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن وہ ہوتی جو دولت ملک سے باہر جائے منی لانڈرنگ کا جو پیسہ ملک میں آئے وہ حلال کرپشن ہوتی ہے، منی لانڈرنگ کی رقم کی بندر بانٹ کے بدلے 458 کنال زمین 28 کروڑ نقدی اور پانچ قراط ہیرے کی انگوٹھی وصول کرنا کرپشن نہیں ہے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر یہ سب فائدے نہیں ہیں تو کیا لنگر خانے اور مسافر خانے فائدے ہوتے ہیں؟ ساری عمر سیاسی مخالفین پر چور ڈاکو کے الزامات لگانے والوں آج خود احتساب سے بھاگ رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہے اس لیے چور عدالت کے آگے آگے بھاگ رہا ہے، شوکت خانم بھی ٹرسٹ ہے القادر بھی ٹرسٹ ہے لیکن دونوں کی آڑ میں مالی فوائد کے کاروبار چل رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرٹیفائیڈ جھوٹا، کرپٹ اور بددیانت شخص قوم کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا، چوروں کا ٹبر احتساب سے زیادہ دیر نہیں بھاگ سکتا۔



















