اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے چھوٹے پیمانے کے کاروبار کیلئے وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت قرض کی رقم کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ کرنے کی ہدایت دے دی۔
وزیرِ اعظم کی زیر صدارت چھوٹے اور درمیانے درجے (ایس ایم ایز) کے کاروبار کے امور پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولیات کی فراہمی کیلئے انکا تفصیلی سروے کرنے جلد مکمل کرنے کی ہدایت دے دی۔
اجلاس میں وزیر اعظم نے ہدایت دی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو دی جانے والی سہولیات کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کا اطلاق یقینی بنایا جائے اور چھوٹے پیمانے کے کاروبار میں خواتین آنٹر پرونیورز کیلئے خصوصی پیکیج تشکیل دے کر جلد پیش کیا جائے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افرادی قوت کو کاروبار کی ترغیب دینے کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولت دینے کیلئے پر عزم ہے، دنیا بھر میں ایس ایم ایز معیشت کی ترقی میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ ایس ایم ایز کو فروغ دے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو، حکومت نوجوانوں اور خواتین آنٹرپرونیورز کو اسقدر با اختیار بنانے کیلئے کوشاں ہے کہ وہ نہ صرف خود روزگار کمائیں بلکہ روزگار کے مزید مواقع پیدا کریں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ایس ایم ایز کی ترقی و سہولت کیلئے حکومتی اقدامات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر عملدرآمد کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے بعد ایس ایم ایز کیلئے قرض کے فارم کو مزید آسان اور سادہ کر دیا گیا ہے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ ایس ایم ایز اپنے کاروبار کی بہتری کیلئے قرض کی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
اجلاس میں کہا گیا کہ ایس ایم ایز کی درجہ بندی اس حوالے سے کی جارہی ہے کہ تمام چھوٹے اور متوسط پیمانے کے کاروبار حکومتی معاونت و سہولیات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں اور انہیں بروقت و آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی یقینی ہو۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وزیرِاعظم کی ہدایت پر ایس ایم ایز میں بہت چھوٹے پیمانے اور گھریلو خواتین کے چھوٹے کاروبار کی سہولت کیلئے ایک نئی کیٹیگری متعارف کروائی جائے گی جس میں انکو قرض کے حصول میں آسانی سے لے کر کاروبار کی بہتری کیلئے حکومتی معاونت حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔
اجلاس کو پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے تین بڑے شہروں میں ایس ایم ایز کے اعشاریوں سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ آئندہ چند ماہ میں پورے ملک میں موجود ایس ایم ایز کو بہتر سہولیات کی فراہمی کی منصوبہ بندی کیلئے سروے کیا جائیگا۔
اجلاس کو وزیرِ اعظم کی ہدایت پر ایس ایم ایز کو معاونت کے حکومتی لائحہ عمل کے اہداف اور انکی تکمیل کی مدت پر بھی جامع بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سمیڈا رواں برس فروی تک ایس ایم ایز کیلئے فنانشل لٹریسی اور تربیتی پروگرام کا اجراء کرے گا۔
اس کے علاوہ ایس این ایز کو جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کروانے کیلئے بھی پروگرام کو رواں برس کے وسط تک حتمی شکل دے کر جاری کر دیا جائے گا۔
اجلاس کو ایس ایم ایز کے حوالے سے ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے جامع لائحہ عمل کے اہداف اور انکی معینہ مدت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا جبکہ خواتین آنٹرپرونیورز کی ترقی کیلئے مرتب دی جارہی پالیسی پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز، ایس ایم ای شعبے کے نمائندے اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔



















