پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی فطرت میں کسی کے ساتھ وفاداری ہے ہی نہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے صوبائی صدارت سے ہٹا کر علی امین کو کو وفاق کی اقائیوں کو کمزور کرے کی وفاداری کا انعام دیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی فطرت میں کسی کے ساتھ وفاداری ہے ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو دوسرے صوبے پہ چڑھائی کرنے کا حکم دے کر استعمال کر کے فارغ کر دیا، بانی پی ٹی آئی ہر دوست، کارکن اور ساتھی کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کر کے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتا ہے، لوگوں کو ملک کے خلاف سازش کے لئے استعمال کر کے بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ علی امین کو پارٹی کی صوبائی صدارت سے ہٹا کر بانی پی ٹی آئی نے وفاداری کرنے والوں کی کمر میں چھرا گھونپنے کی اپنی روایت پھر دہرائی ہے، علی امین کی وفاداری کچھ کام نہ آئی، بشری کی شکایتوں پر علی امین کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، بانی پی ٹی آئی کے لیے جس نے جتنی بڑی قربانی دی بانی پی ٹی آئی نے اس سے اتنی ہی بڑی احسان فراموشی کی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ اکبر بابر، جسٹس وجیہہ، نعیم الحق، جہانگیر ترین عبدالعلیم خان بانی پی ٹی آئی کی احسان فراموشی کی چند مثالیں ہیں، بانی پی ٹی آئی کی احسان فراموشی ضرب المثل بن چکی ہے، علی مین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی کے لیے نو مئی سے لے کر 26 نومبر تک ہر انتشاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بانی پی ٹی آئی نے اسے صوبائی صدارت کی عہدے سے ہٹا کر اچھا صلہ دیا۔
پنجاب کی سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ نو مئی اور 26 نومبر کو نوجوانوں کو استعمال کیا اور پھر انہیں جیلوں میں سڑنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا، ساری زندگی دوسروں کو اپنے سیاسی مقاصد اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے والے کی فطرت آج بھی نہیں بدلی۔
انہوں نے کہا کہ آج کوئی پُرانا دوست، عہدے دار، ساتھی کارکن ساتھ کھڑا نہیں ہے، عقل رکھنے والے سمجھ رکھنے والے اِس شخص کی فطرت کو سمجھیں اور اگلی کسی قسم کی ملک کے خلاف سازش کا حصہ نہ بنیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی سازش اور ذاتی مقاصد کا حصہ بننے سے پہلے سوچیں جو آج علی امین گنڈاپور سوچ رہے ہیں لیکن بہت دیر ہو چکی۔



















