تحریک انصاف کے چیرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے ہم نے نہیں حکومت نے بند کیے ہیں۔
تحریک انصاف کے چیرمین بیرسٹر گوہر نے ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مذاکرات میں پہلے ہی سنجیدہ نہیں تھی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خان صاحب نے پہل کی اور کمیٹی بنائی اور کہا کہ اپنے لیے ڈیل نہیں جمہوریت کے لیے اور ملک کے لیے چانس دے رہا ہوں، ہمارے صرف دو مطالبات تھے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور کمیشن کا قیام ہو۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک مہینہ مذاکرات ہوئے، کوئی حل نہیں نکلا، حکومت نے جو کچھ لکھا ہوا تھا وہ ہمارے ساتھ شیئر کرتے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پیکا ایکٹ ایک کالا قانون ہے جسےکسی صورت قبول نہیں کرتے یہ میڈیا کی آواز بند کرنے کے لیے ہے، مذاکرات کے دروازے ان لوگوں نے بند کئے جو چاہ ہی نہیں رہے تھے اور ایسے لوگ موجود تھے جو سیاسی حل نہیں چاہتے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 8 فروری کو صوابی میں تاریخی جلسہ ہو گا، یہ مینڈیٹ چوری کرنے والوں کے خلاف ہو گا، صوبہ میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی علی امین پر مکمل اعتماد ہے۔
بیرسٹر گوہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سینٹ انتخابات میں صوبہ کی نمائندگی نہیں ہے فوری مخصوص نشستیں دے کر سینٹ کا الیکشن کرایا جائے، ہم سب اپوزیشن جماعتوں سے ملیں گے۔



















