افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بعد رہ جانے والے جدید ہتھیار پاکستان کے لیے ایک سنگین تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس حوالے سے اپنے رد عمل میں کہا کہ افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیار پاکستان اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے ایک اضافی خطرہ بن چکے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یہ ہتھیار دہشت گرد تنظیموں، بشمول تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مسلسل کابل میں حکام سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
ترجمان نے پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا، اور کہا کہ افغانستان میں موجود ہتھیاروں کا مسئلہ ایک سنجیدہ نوعیت کا ہے جس کا حل فوری طور پر تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔



















