کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی پر 9 فیصد شیئرز رکھنے والا الجمیح گروپ غیر قانونی طور پر قابض ہوگیا جبکہ الجمیح گروپ نے ایس ای سی پی کو شئیرز ہولڈرز کی تفصیلات دینے سے بھی گریز کیا۔
کراچی کے عوام بجلی کو ترس گئے، کے الیکٹرک بجلی کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئی، حکومت کی جانب سے 200 ارب روپے کی سبسڈی نہ ہو تو کراچی والے مہنگی بجلی خریدیں، کے الیکٹرک 200 ارب روپے کی سبسڈی کے باوجود ایک میگا واٹ بجلی پیدا نہ کرسکا۔
کراچی الیکٹرک میں کم شیئر ہولڈرز کے الیکٹرک کی انتظامی امور پر قابض ہے، الجمیح گروپ کے پاس کے الیکٹرک کے صرف 9 فیصد شیئرز ہیں، الجمیح گروپ نے 2009 میں انتظامی امور اپنی نااہلی کی وجہ سے ابراج گروپ کے حوالے کیے، ابراج گروپ کے دیوالیہ ہونے پر اس نے انتظامی امور ادا کرنے سے انکار کیا۔
2019 کے بعد الجمیح گروپ 9 فیصد شیئرز کے ساتھ کے الیکٹرک کے انتظامی امور پر قابض ہے، بد انتظامی اور نااہلی کی وجہ سے حکومت پاکستان کے الیکٹرک کو سالانہ 200 ارب روپے کی سبسڈی دیتی ہے، سیج سرمایہ کاری گروپ کے کراچی الیکٹرک میں 36 فیصد شیئرز ہیں۔
سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن نے کے الیکٹرک سے شیئر ہولڈرز کی تفصیلات طلب کیں، الجمیح گروپ دیگر شیئرز ہولڈرز کو تفصیلات دینے سے منع کیا اور خود بھی ایس ای سی پی کو شیئر ہولڈرز کی تفصیلات دینے سے گریز کرتا رہا۔
الجمیح گروپ کی جانب سے ایس ای سی پی کو کے الیکٹرک کے شیئر ہولڈرز کی تفصیلات اس لئے فراہم نہیں کی گئیں کہ الجمیح گروپ کے الیکٹرک میں صرف 9 فیصد شیئرز کا حامل ہے، الجمیح گروپ کو کراچی الیکٹرک کا مکمل طور پر کنٹرول حاصل ہے۔
شنگھائی الیکٹرک 2016 سے کراچی الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کررہی تھی، 2023 تک شنگھائی الیکٹرک کمپنی کے الیکٹرک خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کررہی تھی، الجمیح گروپ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے شنگھائی الیکٹرک نے کے الیکٹرک خریدنے کی کوششیں ترک کردیں۔
کراچی الیکٹرک میں بیرونی سرمایہ کاری کا بھی ڈھنڈورا پیٹا گیا، کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی میں بیرونی سرمایہ کاری الجمیح گروپ کی ہے جو کہ صرف 9 فیصد ہے، کے الیکٹرک میں بیرونی سرمایہ کاری کمپنی کے اکثریتی شیئرز کا غلط تاثر دیا گیا۔



















