وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ناکامی چھپانے کیلئے کہا ایک زرعی سیکٹر ٹیکس نہیں دیتا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے بات کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے، وفاق میں بھی ٹیکس کا ساڑھے57 فیصد حصہ صوبوں کا ہے، ایف بی آر نے ناکامی چھپانے کیلئےکہا ایک زرعی سیکٹر ٹیکس نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اپنے ٹیکس اہداف حاصل کیے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیلز ٹیکس کو بھی صوبوں کو دیاجائے، ایف بی آر زرعی ٹیکس جمع نہیں کرے گی صوبائی حکومت کرے گی، ایس آربی کا 2012 میں 25 ارب ٹیکس کا ہدف تھا جو حاصل بھی کیا گیا، واضح کہتا ہوں ایف بی آر کرپشن کا گڑھ ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے بارہا کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات ضروری ہیں، ہم نے 6 ارب بڑھائے تھے کہ اس سال جمع کریں گے، اس سال زرعی ٹیکس سے ایک ارب روپے جمع کیے، ایس آر بی نے ہر سال ٹارگٹس پورے کیے ہیں، زرعی ٹیکس 20 سال سے ہے مگر نتیجہ کم تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دریاؤں پر ڈیم بننے سے ہماری ہزاروں ایکڑ زمین بنجر ہو گئی ہے، ہمیں بتایا گیا جنوری میں آئی ایم ایف وفد نہیں آرہاہے، ہم نہیں چاہتے کہ آئی ایم ایف پروگرام ختم ہونے کی وجہ بنیں، وفاقی حکومت کا حصہ نہیں مگر اسکو مکمل سپورٹ کررہے ہیں، ایف بی آر نے اپنی کوتاہی چھپانے کیلئے زرعی ٹیکس لگوایا۔



















