اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے قیادت اور استحکام کے لیے عالمی تعاون پر زور دیتے ہوئے وسطی ایشیا کے لیے پاکستان کو گیٹ وے قرار دے دیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے 5 ویں بین الاقوامی ورکشاپ برائے قیادت اور استحکام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی، غربت اور غلط معلومات جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور شراکت داری پر زور دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ جامع اور پائیدار ترقی کے لیے ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ پاکستان وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ایک اہم “گیٹ وے” کی حیثیت رکھتا ہے۔
صدر زرداری کا کہنا ہے کہ مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے وسطی ایشیائی ممالک گوادر بندرگاہ سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ صدر مملکت نے علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم دنیا مشترکہ ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دنیا کو اقتصادی، ماحولیاتی، سیکیورٹی، غلط معلومات اور تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون درکار ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعاون کے مواقع پیدا کریں اور لوگوں کی فلاح و مشترکہ امن و خوشحالی کے لیے کام کرتے ہوئے لوگوں کو ایک مشترکہ وژن کے گرد متحد کریں۔ قیادت کو پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی ترغیب دینی چاہیے۔
آصف زرداری نے مزید کہا کہ دیرپا تبدیلی لانے کے لیے تقسیم، تنازعات، اور خوف کی بجائے مکالمے، تعاون، اور امید کو فروغ دینا ہوگا۔ صدر زرداری نے ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کے لیے عالمی شراکت داروں کو مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔
قبل ازیں صدر مملکت کو ورکشاپ کے اغراض و مقاصد سے متعلق بریف کیا گیا۔ یہ ورکشاپ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے منعقد کی گئی ہے جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 64 غیر ملکی اور 32 پاکستانی شرکاء شامل ہوئے۔
اس کورس میں کاروباری رہنماؤں، سفارت کاروں، سرکاری حکام، تھنک ٹینکس اور میڈیا کے نمائندوں بھی شریک تھے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی دنیا بھر سے پارلیمنٹرینز، پالیسی سازوں، سفارت کاروں اور سینئر ایگزیکٹوز کے لیے ایسی ورکشاپس کا انعقاد کرتی ہے۔ یہ ورکشاپ مختلف عالمی مسائل پر پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے اور دنیا کے ساتھ مکالمے کو فروغ دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔



















