امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ حکومت میں نا اہلیت ہے، نا ایمانداری ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیکا آرڈیننس پر مسلسل آواز اٹھاتے رہیں گے، اس سے حکومتیں اپنی پسند کی خبریں عوام تک پہنچانا چاہتی ہیں، ایسی تمام تدابیر حکومت کے خلاف رائے بنارہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مہنگائی ساتویں آسمان پر ہے قیمتیں کہاں تک پہنچ گئیں ہیں، دعویٰ کے باوجود چینی کی قیمت دگنی ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کرے، عام آدمی کے لیے بچوں کو پڑھانا دشوار ہوگیا ہے، اسٹاک اسٹاک مارکیٹ کرتے رہتے ہیں کچھ دنوں میں اصل حقیقت سامنے آجائے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ صنعتیں کتنی چل رہی ہیں روزگار کتنا مل رہا اس ملک میں ؟ غریب لوگ اس ملک میں فارغ ہوگئے ہیں جبکہ مڈل کلاس کی زندگی اذیت ناک بنادی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز میں عوام کے ساتھ کیا کیا گیا، ہمیں بتایا کہ 18 آئی پی پیز سے بات چیت کی ہے اور خسارہ کم ہوگیا، پاکستانی عوام کو بجلی کی کم قیمت کم کرکے فائدہ کیوں نہیں پہنچاتے؟ بجلی کی فی یونٹ کمی کی جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام کو بجلی کی قیمت میں کمی کا فوری فائدہ پہنچایا جائے، اب سولر سسٹم پر عوام جارہی ہے اس پر بھی ٹیکس لگارہے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رمضان کے بعد جماعت اسلامی بہت بڑی تحریک شروع کررہی ہے، بڑے بڑے ملین مارچ احتجاج ہوگا، ایسا لانگ مارچ ہوگا جو چاروں صوبوں سے ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پی پی اور ایم کیو ایم نے اس شہر میں جوحالت ساڑھے 3 کروڑ عوام کی بنادی ہے، پی پی اور ایم کیو ایم کو عوام نے مکمل مسترد کردیا ہے، پچھلے چالیس سالوں میں ان دونوں پارٹیوں نے اس شہر کو برباد کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیک پارلیمنٹ ہے اس پر کوئی پیکا لا لگتا ہے، قوم پر بوجھ ہیں یہ سارے لوگ عوام اس بوجھ کو اتارنا چاہتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پورا عدالتی نظام ایک گلہ سڑا نظام ہے، جن پارٹیوں نے 26 ویں ترمیم میں شامل تھیں انہوں نے جرم کیا ہے، پورا شہر ادہڑا ہوا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، 42 فیصد انکم ٹیکس کراچی سے جمع ہوتا ہے لیکن پھر سلوک کیا ہوتا ہے، پی پی حکامت کا17 واں سال ہے صرف 300 بسیں آئی ہیں۔
انہوں یہ بھی کہا کہ رمضان کے بعد جماعت اسلامی ایک بہت بڑا ملین مارچ کریگی، تعلیم کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں، پی پی تعلیم نسل کشی کررہی ہیں، ٹارگٹ کررہے ہیں اس شہر کے نوجوانوں کے ساتھ تاکہ وہ آگے نا بڑھ سکیں، بلوچستان کے عوام پریشان ہے مسنگ پرسن آج تک لاپتہ ہیں۔



















