عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے تحت ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے معاملے پر جائزہ مشن مذاکرات کے لیے کل اسلام آباد پہنچے گا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق اقتصادی جائزہ مذاکرات 4 سے 15 مارچ تک جاری رہیں گے، پہلے مرحلے میں تکنیکی اور دوسرے مرحلے میں پالیسی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا 9 رکنی وفد نیتھن پورٹر کی قیادت میں 2 ہفتے پاکستان میں قیام کرے گا،جبکہ آئی ایم ایف وفد آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ کے لیے تجاویز بھی دے گا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی رضامندی کی صورت میں ہی تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کے وفد کا وزارت خزانہ، وزارت توانائی، منصوبہ بندی اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مذکارات شیڈول کیےگئے ہیں اس کے علاوہ ایف بی آر، اوگرا، نیپرا سمیت دیگر اداروں اور وزارتوں کے ساتھ بھی مذاکرات ہوں گے۔



















