کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس سے متعلق اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار آرائیں نے ڈی آئی جی سی آئی اے، ایس ایس پی اور تفتیشی افسر کے نام خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم ارمغان کے والد اور مقتول کی والدہ کو شامل تفتیش کیا جائے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار آرائیں نے کہا کہ میں نے خط پراسیکیوشن کی طرف سے گائیڈ لائن کیلئے لکھا ہے، ملزم ارمغان اور اسکے ساتھیوں کا تعلق دہشت گردی یا دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنےوالوں میں ہوسکتا ہے۔
خط کے متن میں کہا گیا کہ ملزم ارمغان منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہوسکتا ہے، اس کا تعلق ملک دشمن عناصر سے ہوسکتا ہے، سچائی جاننے کیلئے پیرا ملٹری فورس اور حساس اداروں سے مددلی جائے۔
خط کے متن کے مطابق ملزم ارمغان کا تعلق منشیات کے بین الاقوامی ڈیلرز سے بھی ہوسکتا ہے، ملزم اور مقتول کے دوستوں کوبھی شامل تفتیش کیا جائے، دونوں کے دوستوں میں مرد وخواتین، لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں، ان سب سے پوچھ گچھ کی جائے جن کا ملزم یا مقتول سے تعلق رہا ہے۔
ذوالفقار آرائیں نے خط میں کہا کہ ملزم ارمغان کی جائیداد، بزنس، بینک اکاؤنٹس اور ٹریول ہسٹری بھی حاصل کی جائے، مقتول مصطفیٰ عامر کے بزنس، جائیداد اور ٹریول ہسٹری حاصل کی جائے، جس موبائل فون سے تاوان کیلئے کال کی گئی اور جس موبائل پرکال ریسیو ہوئی دونوں کا فرانزک کرایا جائے۔
خط میں کہا گیا کہ ملزم کے گھر سے برآمد ہونے والے اسلحہ، 6/7رائفلز اسنائپرگن، گولیوں سے بھرے سوٹ کیسز کو کیس پراپرٹی بنایا جائے، برآمد ہونے والے 64لیپ ٹاپ، 3واکی ٹاکی سیٹ، ڈیجیٹل محفوظ لاکرز، دوشناختی کارڈ کو بھی کیس پراپرٹی میں شامل کیا جائے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ برآمد ہونے والی تمام اشیاء کا فرانزک کرایا جائے، یہ اسلحہ ملزم نے کہاں سے خریدا، کس سے خریدا معلومات حاصل کی جائیں، ڈی ایچ اے کے سیکیورٹی انچارج اور مقامی انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاروں کی مدد لی جائے اور مقامی پولیس سے پوچھا جائے کہ اتناعرصہ کیوں آنکھیں بند رکھیں، ملزم کے گھر اور اردگردکی سی سی ٹی وی فوٹیج کافرانزک کرایا جائے۔
خط کے مطابق مقدمے کے بارے میں سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے مواد کو کیس پراپرٹی بنایا جائے، مصطفیٰ کا ارمغان کے گھر آنا، پھرگاڑی کا بلوچستان جانا، جائے وقوعہ سمیت تمام جگہوں کے فوٹو گرافس لئے جائیں۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے خط میں مزید کہا کہ ملزم کے مالک مکان سے بھی پوچھ گچھ کی جائے، کرایہ کا ایگریمنٹ دیکھا جائے کس مد میں بنگلہ کرائے پر دیا گیا، رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمیاں کیوں ہوتی رہیں۔



















