Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مودی کا گجرات: اقلیتوں پر ظلم، ذات پات کی بربریت اور معاشی بدحالی کا شکار

بھارتی ریاست گجرات، جہاں نریندر مودی کی سیاست کی بنیاد رکھی گئی، آج بھی اقلیتوں، دلیتوں اور قبائلی کمیونٹیز کے لیے ایک خوفناک مقام بنا ہوا ہے۔ مذہبی منافرت، ذات پات کی تفریق اور معاشی عدم مساوات کے باعث گجرات بدامنی اور بدحالی کا شکار ہے۔

مودی کے دور حکومت میں گجرات کے مسلمان مسلسل تشدد، لنچنگ اور اسلاموفوبیا کا نشانہ بنتے رہے ہیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نہ صرف مجرموں کو تحفظ دیتی ہے بلکہ متاثرین کی آواز کو بھی دبا دیتی ہے۔ احمد آباد، ودودرا اور کھمبھٹ جیسے شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات بی جے پی کی پشت پناہی میں بڑھتے جا رہے ہیں، جس سے مسلمانوں کے تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

گجرات میں ذات پات کی بنیاد پر تفریق اور ظلم بڑھتا جا رہا ہے۔ دلیت، او بی سی اور قبائلی برادریاں، جو ریاست کی کل آبادی کا 34 فیصد ہیں، معاشی مواقع سے محروم رکھی جا رہی ہیں اور ان پر بے تحاشا تشدد کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، کسانوں کو کارپوریٹ حمایت یافتہ زمینوں پر قبضے کے باعث اپنی جائیدادیں کھونا پڑ رہی ہیں، جبکہ بی جے پی زرعی کمیونٹی کو نظرانداز کر کے بڑے کاروباری افراد کو ترجیح دے رہی ہے۔

دیہی علاقوں میں بھی صورت حال ابتر ہے۔ کچ اور سوراشٹرا کے کسان پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں، لیکن بی جے پی قیادت ان وسائل کو صنعتوں کے حوالے کر رہی ہے بجائے اس کے کہ عام عوام کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔ گجرات کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہیں، جبکہ بی جے پی کی حکومت ترقیاتی پالیسیوں کے بجائے فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کو فروغ دے رہی ہے۔

مودی کی قیادت میں گجرات میں اقلیتوں اور نچلی ذات کے افراد کے لیے ناانصافیوں کا ایک طویل سلسلہ چل رہا ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں رہتے ہوئے گوڈھرا اور ودودرا جیسے علاقے مذہبی تشدد کے مراکز بن چکے ہیں، جہاں اقلیتوں کے گھروں اور کاروباروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

گجرات کا ترقیاتی ماڈل حقیقت کے برعکس ایک مصنوعی افسانہ ثابت ہو رہا ہے۔ انفراسٹرکچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اقلیتیں خوف کی فضا میں زندگی گزار رہی ہیں۔ قبائلی کمیونٹیز کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے تاکہ بی جے پی کے حمایت یافتہ کاروباری گروپس ان پر قبضہ کر سکیں، جس سے یہ طبقات مزید بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں۔

ذات پات اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کو فروغ دینے والی پالیسیوں کے ذریعے بی جے پی گجرات میں مستقل تنازعات کو ہوا دے رہی ہے۔ ذات پات کی تفریق، فرقہ وارانہ فسادات اور بے روزگاری جیسے مسائل گجرات میں سیاسی استحکام کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔

نریندر مودی کے دور میں گجرات کے نچلے ذاتوں اور اقلیتوں کے خلاف جو پالیسی اپنائی گئی، وہ آج بھی جاری ہے۔ بی جے پی کی حکومت میں سیاسی طاقت صرف اونچی ذاتوں کے ہاتھ میں ہے، جبکہ نچلی ذات کے افراد کو مظلوم بنا کر رکھا گیا ہے۔

گجرات کے عوام بے روزگاری، مہنگائی اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن بی جے پی کی حکومت کارپوریٹ مفادات کو عوامی فلاح و بہبود پر ترجیح دے رہی ہے۔ مذہبی اقلیتوں اور کمزور طبقات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ حکمران جماعت اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔

گجرات، جو کبھی ترقی اور خوشحالی کا دعویدار تھا، آج اقلیتوں پر ہونے والے مظالم، ذات پات کی تفریق اور معاشی ناہمواریوں کے باعث ایک بحران زدہ ریاست بن چکا ہے۔ نریندر مودی کی سیاست کا آغاز اسی ریاست میں اقلیتوں کے خون سے ہوا، اور آج بھی یہ خطہ ظلم، جبر اور ناانصافی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں