ترجمان دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ پاک سعودی عرب تاریخی تعلقات کا عکاس ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف 19 سے 22 مارچ کے دوران سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں، نائب ویر اعظم اور وزیر خارجہ اہم وفاقی وزرا وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔
شفقت علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ دو طرفہ تعلقات، معاشی تعاون اور سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث ہو گا، دورے کے دوران وزیر اعظم کی سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان سے سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پاک سعودی تعلقات مذیدمستحکم کرنے پر بات چیت ہوئی، وزیراعظم نے پاکستان کی مسلسل حمایت پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرغز تاجک سرحد کے حوالے سے معاہدے کو سراہتا ہے،کرغزستان اور تاجکستان کے عوام کو اس تاریخی معاہدے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، یقین ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں تعاون اور ترقی کا نیا دور شروع ہو گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان مغربی پٹی اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، ہماری میزائلوں کی صلاحیت پاکستان کے دفاع کے لیے ہے، یہ ڈیٹرینس کے زریعہ ہمارے دفاع کی حکمت عملی ہے، صنعا پر بمباری اور ہوٹیوں کی جانب سے جوابی کاروائیوں سے تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان یمن کے ہاتھوں یمنیوں کے لیے امن عمل کا حامی ہے۔
شفقت علی خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں ہے، امریکہ میں داخلہ پابندیوں کی رپورٹوں کی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تردید کی ہے، کل ویزا معاملات کے حوالے سے ہونے والا اجلاس معمول کے اجلاسوں کا حصہ تھا، کسی سفارت کار کی طلبی ایک معمول کا حصہ ہوتی ہے، اس میں کچھ بھی غیرمعمولی نہیں ہوتا، ہماری جانب سے ہمارا موقف افغان انتظامیہ کو متعدد چیلنز سے پہنچایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو افغان سرزمین سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کا کہتے ہیں، طورخم کی سرحد گزشتہ روز کھول دی گئی ہے، کل تک پیدل آمد و رفت بھی شروع ہو جائےگی، افغان سائیڈ کی جانب سے کسی قسم کی ہوسٹ تعمیر نہیں کی جائے گی، یہی ہمارا بنیادی مطالبہ تھا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات مضبوط اور کثیر الجہتی ہیں، یہ تعلقات دہائیوں پر مبنی ہیں، اگر بھارتی قیادت لاکھوں کشمیریوں کے قتل عام کو پرامن کہتی ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے، سچائی یہ ہے کہ وہ لاکھوں کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث ہیں۔
شفقت علی خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر مختلف حوالے سے افواہوں پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی گئی ہے، کمیٹی مختلف سوشل میڈیا افواہوں و الزامات کی تحقیقات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ برکس ڈیویلپمنٹ بینک کی رکنیت کا طریقہ کار برکس کے طریقہ کار سے مختلف ہے، اسپین میں ہمارے شہریوں کی گرفتاری کی اسپین میں ہمارے قونصل خانے سے اطلاع موصول ہوئی تھی، پاکستان شام اور لبنان میں تمام فریقین کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاک امریکہ باہمی تعلقات مثبت راستے پر ہیں، امریکی سفری پابندیوں سے متعلق خبریں صرف قیاس آرائیاں ہیں، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دفتر خارجہ ایسی خبروں کی تردید کر چکا، فی الحال اس معاملے پر امریکہ سے کچھ موصول نہیں ہوا۔
شفقت علی خان نے مزید یہ بھی کہا کہ غیر ملکی شہریوں سے متعلق ڈیڈ لائن میں کوئی تبدیلی نہیں ہے، ہمارا میزائل اور ڈیفنس پروگرام ہمارے دفاع کے لیے اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔



















