امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسرائیل نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، امریکہ نے اس خلاف ورزی کو سپورٹ کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے یک طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں شدید بمباری کی جس میں 500 کے قریب لوگ شھید ہوئے، شھید ہونے والوں میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقہ کی ناقہ بندی کرکے اشیاخورونوش کی ترسیل روک کر پھر بمباری کی، امریکہ نے کہا یہ بمباری ہماری مشاورت سے کی گئی یہ دونوں ممالک دہشت گردی کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک بمباری سے لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، دنیا اس بربریت کی مزمت کررہی ہے، یہ سفاک اور نسل کشی کرنے والے ممالک ہیں، افسوس ہوتا ہے کہ مسلم ممالک کا رویہ کیا ہےکچھ مسلم ممالک روس اور یوکرین میں ثالثی بن رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ تو سب سے بڑا ہے، دنیا کے مسلمان پاکستان کی طرچ دیکھتے ہیں اگر ہم کوئی اپنا جارحانہ رویہ اختیار کریں تو دنیا ہماری بات سنے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران طبقے نے ہمیں بہت چھوٹا کردیا ہے، ان کی توجہ کا مرکز کچھ اور ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے حالات بھی خراب ہیں، ہمیں اس پر احتجاج کرنا چاہیے جماعت اسلامی احتجاج کرتی رہی ہے اب بھی کررہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ کل نماز جمعہ کے بعد سڑکوں پر آئیں اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں، جہاں جہاں امریکی سفارتخانے ہیں ان کی طرف مارچ کریں گے، حکومت اور اپوزیشن کو بھی اس پر آواز بلند کرنی چاہیے، کیا ان کےسینے میں دل نہیں ہیں کیوں نہیں بولتے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں سے کہتا ہوں وہ بھی کوئی کردار ادا کریں سب کو میدان میں نکلنا چاہیے، اگر کوئی پیغام افواج اور حکومت سے جائے گا تو اس کا اثر ہوگا، اس وقت حکومت کی ساری توجہ امریکی صدر کے لیے ہے انجمن غلامان امریکہ بنے ہوئے ہیں امریکہ کی آشیر باد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تمام لیڈرشپ اس وقت امریکہ کی مزمت کریں کیونکہ امریکہ کی وجہ سے اسرائیل یہ سب کچھ کررہا ہے، امریکہ براہ راست اس دہشت گردی میں شریک ہے، اس وقت سب امریکہ سے امید لگا کربیٹھے ہیں، پاکستان میں اس وقت ایک لابی کوشش کررہی ہے کہ حالات کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل کے ساتھ ساز باز کی جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ کچھ معاملات کیے تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے، قائد اعظم نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا تھا حکمران ایسا کچھ کرنے کا سوچیں بھی مت۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید یہ بھی کہا کہ قائداعظم نے کہا تھا اسرائیل ناجائز ریاست ہے پاکستان کبھی اس کو تسلیم نہیں کرے گا، امریکہ اسلامی ممالک سعودی عرب اور یو اے ای جیسے ممالک کے ذریعے دباو ڈالے گا حکمران طبقہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچے بھی نا ورنہ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔



















