سندھ حکومت نے صوبے کے تعلیمی بورڈز کے لیے مستقل چیئرمینز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے، اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کی تعیناتی کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواست مسترد کر دی گئی ہے اور تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کی تعیناتی پر فوری عملدرآمد کا حکم دے دیا گیا ہے۔
سندھ حکومت نے سرچ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر چیئرمینز کو فوری طور پر عہدوں کا چارج لینے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیمی بورڈز میں سربراہ کی تعیناتی کے لیے جاری حکم امتناع بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔
مقرر کیے گئے چیئرمینز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
محمد مصباح تنہیو کو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ غلام حسین سہو کو میٹرک بورڈ کراچی کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔
مشرف علی راجپوت کو بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔
سندھ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد چانڈیو کو حیدرآباد تعلیمی بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر آصف علی میمن کو نواب شاہ تعلیمی بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
میرپورخاص کے تعلیمی بورڈ کے لیے منصور راجپوت کو بطور چیئرمین نامزد کیا گیا ہے جو ریٹائرڈ صوبائی ایڈیشنل سیکریٹری ہیں۔
سکھر تعلیمی بورڈ کا چیئرمین سندھ مدرسہ کے پروفیسر زاہد حسین چنٹر کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر خالد حسین مہر کو لاڑکانہ بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔



















