اسلام آباد؛ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان کی حیثیت بے معنی ہوجائے گی۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج جماعت اسلامی کی قیادت نے وزیر اعظم شہبازشریف سے ملاقات کی ہے، دوران ملاقات حکومت کو مسئلہ بلوچستان پر تجاویز دی ہیں، بلوچوں کے لاپتہ افراد کو رہا کرنے کی ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم کا اپنا ایک دفتر کوئٹہ میں ہونا چاہیے، بلوچستان کے عوام کو وفاق کی طرف سے عزت دینے کا پیغام دینے کی ضرورت ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی نے وزیر اعظم کی توجہ مسئلہ فلسطین پر دلائی ہے، وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ اسرائیل کس طرح ہیکل سلیمانی بنانے کے منصوبے کی تیاری کرچکا ہے، امت مسلمہ کو موقف کی بجائے واقعی عملی کردارادا کرنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور اسٹیک ہولڈرز کا گروپ بناکر پاکستان سے دنیا کے موثر ممالک میں بھیجا جائے، فریڈم فلوٹیلا کی طرزپر اسرائیلی محاصرہ توڑا جائے، کچھ مسلم ممالک حماس کی جاسوسی کرکے اسرائیل کو خوش کررہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان کا کردار موقف کی حد تک اقوام متحدہ میں بہتر ہے، فلسطینی طلبا کی بھی اچھی میزبانی کی جارہی ہے، اس طرح کے اقدامات کی اہمیت اپنی جگہ ہے، گیارہ اپریل کو لاہور بیس اپریل کو اسلام آباد میں اسرائیل کے خلاف بڑے مظاہرے ہوں گے، حکومت پاکستان اسرائیل جانے والے صحافیوں کے خلاف تحقیقات کرے، پاکستان قائد اعظم و علامہ اقبال کی فلسطین پالیسی پر عمل کرے۔
حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں، ہم نے بجلی کے بلز میں بنیادی کمی کا مطالبہ کیا ہے، مہنگائی کی کمی کے دعوے اپنی جگہ مارکیٹ میں ہر چیز اسی طرح مہنگی مل رہی ہے، تنخواہ دار طبقے سے بہت زیادہ ٹیکس کاٹا جارہا ہے، وزیر اعظم نے تنخواہ دار پر ٹیکس میں کمی کا وعدہ کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے لیے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے، افغانستان کو بھی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے، جبکہ نہروں کے معاملے پر عوام اور اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لیا جائے، کسی نئی جگہ کو کسی آباد جگہ کو برباد کرکے بسانا کیسے درست ہوسکتا ہے، حکومت اتفاق رائے کے لئے مشترکہ مفادات کونسل بلائے، اگر نہروں پر اتفاق ہوتا ہے تو منصوبہ آگے بڑھایا جائے ورنہ روک دیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم کی نوراکشتی نے کراچی کو برباد کردیا ہے، جماعت اسلامی کل فلسطین پر جے یو آئی کی اے پی سی میں شرکت کرے گی، علما کرام کو فلسطین کے حوالے سے فتویٰ جاری کرنا چاہیے، سردار اختر مینگل کے دھرنے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید یہ بھی کہا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے امریکی مفادات کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں گے، حکومت پاکستان کو افغانستان سے بات چیت کو آگے بڑھانا چاہیے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی سمیت سب سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے، پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ہورہے ہیں تو اچھی بات ہے۔



















