اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان پر ان باتوں کا الزام لگا رہا ہے جن کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں۔
پاک بھارت کشیدگی پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے روسی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مغرب بالخصوص امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا نشانہ بنا، ماضی میں سوویت افغان جنگ کا حصہ بننا پاکستانی حکومتوں کی غلطی تھی۔
انہوں نے کہا کہ سوویت افغان جنگ کا حصہ بننے کے نتیجے میں پاکستان میں جہادی نظریات اور ٹریننگ شروع ہوئی، مغرب کے ایجاد کردہ جہاد کے نتیجے میں ملک کی اخلاقیات تبدیل ہو گئیں اور موجودہ صورتحال نے جنم لیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سوویت افغان جنگ کے دوران پاکستان نے امریکہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی، نائن 11 حملوں کے بعد پاکستان نے دوبارہ مغربی اتحاد میں شمولیت اختیار کی، اس کے بعد ہماری سرزمین سے امریکہ کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی گئیں۔
انکا کہنا تھا کہ میری عاجزانہ رائے میں یہ دونوں جنگیں ہماری نہیں تھیں، پاکستان ماضی کی پالیسیوں کے نتائج بھگت رہا ہے، امریکہ نے 80 اور 90 کی دہائی میں ہمیں چھوڑ دیا تھا، 2021 میں امریکہ کے افغانستان سے تباہ کن انخلاء نتیجے میں سیکیورٹی صورتحال مزید تباہی کا شکار ہوئی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پشتون پاکستان اور افغانستان دونوں جانب آباد ہیں، 60 لاکھ کے قریب ان ڈاکومنٹڈ افغانی پاکستان میں موجود ہیں، پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اب اس کی ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے، بھارت ان باتوں کا الزام لگا رہا ہے جن کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں۔



















