نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے جس میں بھارت کی جانب سے حالیہ یکطرفہ اقدامات اور اشتعال انگیز بیانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار نے قطری وزیراعظم کو پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں اور بھارت کی جانب سے خطے میں امن کو نقصان پہنچانے والی پالیسیوں سے آگاہ کیا۔
ترجمان کے مطابق، قطری وزیراعظم نے بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے پرامن ذرائع کو اپنانا ہی بہترین راستہ ہے۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے مؤقف کو سنا اور سراہا۔
دفتر خارجہ نے اس رابطے کو اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا ہے جس کا مقصد خطے میں تناؤ کو کم کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنا ہے۔
ترجمان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور قطر کے درمیان پائیدار برادرانہ تعلقات کی توثیق کی جب کہ فریقین نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر قریبی رابطوں اور مشاورت کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جبکہ واہگہ بارڈرکی بندش اور اسلام باد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات اپنے ملٹری اتاشی کو وطن واپس بلانے کے علاوہ پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کردی تھی۔
بعد ازاں، 24 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت سے تجارت اور واہگہ بارڈر کی بندش کرنے کا فیصلہ کیا، علاوہ ازیں بھارتی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود بھی بند کردی گئی، اور بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹے میں پاکستان چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔



















