دریائے سوات کے محافظ محمدہلال کون، اس کی کہانی کیاہے؟ ۔ تحصیل کبل سوات کے رہائشی اور بے لوث سیاحوں کی زندگیاں بچانے والے شخص کی کہانی اس کی اپنی زبانی سامنے آگئی!۔
27 جون کو موسلادھار بارشوں کے بعد دریائے سوات میں طغیانی کے باعث 17 سیاح سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے۔
سوات اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دریائے سوات کی بدولت بھی مشہور ہے۔
لیکن یہ خوبصورت دریا بعض اوقات اپنی تیزی اور طغیانی سے انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
دریائے سوات کے محافظ محمد ہلال کون، اس کی کہانی کیاہے؟ ۔ آئیے جانتے ہیں۔
والد نے فی سیل اللہ کام شروع کیا، 8 بھائی مشن کا حصہ ہیں!
ایک خبر رساں ادارے سے گفتگومیں ہلال نے بتایاکہ ہم گزشتہ35 سال سے دریا میں ڈوبنے والوں کی جانیں بچارہے ہیں۔
ہلال نے بتایاکہ یہ کام ہمارے والد دل فروش نے فی سبیل اللہ شروع کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اگرکوئی خدانخواستہ ڈوب کر جان سے چلا جائے تو اس کے لیے کفن اور تابوت بھی فراہم کرتے ہیں۔
محمد ہلال کا کہنا تھا کہ وہ آٹھ بھائی ہیں اور سب اسی مشن کا حصہ ہیں۔ ہم سب نے پانی میں ریسکیو کا ہنر سیکھا ہے۔ ایمرجنسی میں جو بھائی بھی موجود ہوتا ہے فوراً پہنچ جاتا ہے۔
کوئی ادارہ یا تنظیم نہیں،بے لوث خدمات فراہم کرتے ہیں!
انہوں نے کہا کہ ’ان کا کوئی ادارہ یا تنظیم نہیں ہے، نہ ہی وہ کسی ریسکیو آپریشن کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ان کا کہناتھاکہ ہم صرف اپنی استطاعت کے مطابق یہ خدمت سرانجام دیتے ہیں۔
ہلال نے کہاکہ جب میں 10 سے 12 برس کا تھا تو میرے والد نے مجھے پانی میں اتارا اور تب سے میں سیکھتا چلا آ رہا ہوں۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس 8 بھائیوں کے علاوہ کوئی ٹیم نہیں۔ ان کا کہناتھاکہ ہمارے پاس اپنی گاڑی ہے اورجب بھی ایسی صورت حال ہو تو یہ سفری اخراجات بھی خودبرداشت کرتے ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 کا بھی ہلال اور ان کے خاندان کی خدمات کااعتراف
بلال کاکہناتھاکہ ہم کسی انعام یا نوکری کے طلبگار نہیں۔ ریسکیو1122 کے ترجمان نے اعتراف کیا کہ دریائے سوات میں حالیہ واقعے میں ہلال نے تعاون کیا اور لوگوں کی جان بچائی۔
ہلال کے مطابق مجھے صبح سویرے ترجمان ریسکیو 1122 وقارنے آواز دی، میں باہر آیا تو وقار نہیں تھا۔ اس وقت میں دریائے سوات سے آیا تھا لیکن حالات کی اس قدر شدت کا اندازہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہاکہ میں اورمیرابھائی دریائے سوات کی طرف روانہ ہوئے۔ بلال نے بتایاکہ جب مینگورہ پل کے قریب پہنچے تو اطلاع ملی کہ لوگ ڈوب چکے ہیں۔
ہم فوری وہاں پہنچے تو وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ سامنے ایک چھتر کے نیچے2 افراد ڈوب رہے ہیں۔ میں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر فوراً کشتی پانی میں ڈالی اوروہاں پہنچا۔
جس شخص کو ڈوبنے سے بچایا اس نے کہا کہ وہ موت کا منتظر تھا!
ہلال کے مطابق اس چھترکے نیچے ایک شخص اور کتا ڈوبنے کے قریب تھے۔ اس شخص نے مجھے دیکھ کرکہامیں تو موت کا انتظار کررہا تھا کیا یہ کوئی معجزہ تو نہیں؟۔
انہوں نے بتایا کہ دریا کا پانی اس سخص کی گردن تک پہنچ چکا تھا۔ بلال نے کتے اور اس شخص کووہاں سے ریسکیو کرتے ہوئے کنارے پر پہنچایا۔
مجھے نہیں معلوم اس شخص کا تعلق کہاں سے تھا اور اس کا نام کیا تھا، کیونکہ ہم نے کبھی کسی سے نام، نسل یا قوم نہیں پوچھی۔

اپنے کام کی تشہیر نہیں چاہتے،لوگوں کاخطرناک مقامات پرجانا ممنوع قراردیاجائے
ہلال کاکہناتھاکہ 2022 کے سیلاب میں ہم نے 24 لوگوں کو بچایا تھا۔ ان کے مطابق ہم یہ کام اس لیے نہیں کرتے کہ اس کی تشہیر کی جائے۔
دریں اثنامحمد ہلال نے تجویز دی کہ دریا کے کنارے ہوٹلوں پر واضح طور پر لکھا جائے کہ پانی میں جانا ممنوع ہے۔
علاوہ ازیں سیکیورٹی گارڈ یا پروفیشنل کی نگرانی میں لوگوں کو پانی میں جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
واضح رہے کہ جمعے کو دریائے سوات میں طغیانی کے باعث 17 سیاح سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے۔



















