انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کی جانب سےالیکٹرک بائیکس کے درآمدی پارٹس پر ٹیکس چھوٹ کی درخواست مسترد کر دی گئی جس کے بعد کسٹمز ڈیوٹی ایک فیصد سے بڑھ کر 30 سے 35 فیصد تک عائد ہونے کا امکان ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کو غلط اعدادوشمار پر ای وی بائیکس کی اسکیم لانچ کرنے پر بریفنگ دی گئی، جس کے مطابق ای ڈی بی 14 ماہ سے مستقل سی ای او اور ایک سال سے زائد عرصے سے بورڈ سے محروم ہے۔
ذرائع ای ڈی بی کا کہنا ہے کہ ای وی بائیکس کے درآمدی پارٹس پر کسٹمز ڈیوٹی بڑھ کر 20 فیصد تک ہو سکتی ہے، یکم جولائی 2020 سے ای وی بائیکس کیلئے بیٹری، موٹر، چارجر، کنورٹر پر ٹیکس چھوٹ حاصل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی انرجی وہیکل کیلئے سبسڈی؛ 100 ارب سے 9 ارب رواں مالی سال کیلئے مختص
کسٹمز ڈیوٹی بڑھنے سے ای وی بائیکس کیلئے تیار کی گئی اسکیم کے خدوخال اور قیمتیں تبدیل ہونگی، جبکہ توسیع کیلئے آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی 2021-26 کے تحت بجٹ سے قبل درخواست کی جانا تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ میں مستقل سی ای او کی تعیناتی 1 سال سے زائد عرصے سے لٹکی ہوئی ہے، ای ڈی بی بورڈ چیئرمین کے مستعفی ہونے کے باعث بورڈ 1 سال سے زائد عرصے سے غیرفعال ہے۔
ای ڈی بی بورڈ کی منظوری کے بغیر ہی موٹر وہیکل انڈسٹری ایکٹ تشکیل دیا گیا ہے، جبکہ رولز کے مطابق قائم مقام سی ای او کی تعیناتی ایڈہاک بنیادوں پر صرف 2 ماہ کیلئے کی جا سکتی ہے۔
ذرائع ای ڈی بی کا کہنا ہے کہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ میں 14 ماہ سے خدا بخش علی ایڈہاک بنیادوں ہر عہدے پر براجمان ہیں، ای ڈی بی میں مستقل سی ای او اور بورڈ نہ ہونے کے باعث ادارے کو مسائل کا سامنا ہے۔



















