ملک میں 7 سال بعد غربت کے اعدادوشمار جاری کردیے گئے۔ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 29.9 فیصد ہوگئی۔
وزارت منصوبہ بندی نے 2024-25 کے لیے غربت اور عدم مساوات کے تخمینوں پر اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ یہ اعدادوشمار سات سال کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ پاکستان شماریات بیورو کی مردم شماری میں مصروفیت بتائی گئی۔ چیف اکانومسٹ کے مطابق، گزشتہ چند سالوں میں جامع معاشی سروے نہ ہونے کی وجہ سے غربت کے اعدادوشمار جاری نہیں کیے جا سکے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے غربت اور عدم مساوات کے تخمینوں کے لیے ماہرین پر مبنی کمیٹی قائم کی تھی، جس نے حالیہ رپورٹ تیار کی ہے۔ پاکستان شماریات بیورو نے حال ہی میں گھرانوں کا جامع اقتصادی سروے مکمل کیا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا خطاب
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “غربت کا تخمینہ ملکی ترقی میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک میں غربت کا خاتمہ ہے اور سابقہ دور حکومت میں ضلع کی سطح پر غربت کے تخمینے لگائے گئے تھے تاکہ پسماندہ اضلاع کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ 2013 سے 2019 تک غربت میں کمی کا رجحان رہا، مگر گزشتہ سات سالوں میں غربت کی شرح میں 7 فیصد اضافہ ہوا۔ 2019 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے کا سبب معاشی عدم استحکام، کوویڈ-19 کی وبا اور کموڈٹیز سپر سائیکل کے اثرات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “مستقبل کی ترقی کا انحصار ٹیکنالوجی پر ہے، اور حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیکنالوجی کو غریب طبقے تک پہنچایا جائے۔” انہوں نے ڈاکٹر محمد یونس کے ساتھ ڈھاکہ میں کی گئی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اُن کے کام سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اقتصادی صورتحال کا تجزیہ
احسن اقبال نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی 90 لاکھ کی تعداد میں 40 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کر رہے ہیں، جبکہ ملک کی برآمدات 24 کروڑ ڈالر کی حجم کے ساتھ صرف 40 ارب ڈالر تک محدود ہیں۔ اُنہوں نے ملکی برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سات سالوں میں وفاقی حکومت کے ترقیاتی بجٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، اور غربت کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومتوں کو عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
صوبوں میں غربت کی صورتحال
رپورٹ میں ملک کے مختلف حصوں میں غربت کی شرح میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ شہری علاقوں میں غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہو گئی ہے۔
صوبوں کی سطح پر بھی غربت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے بڑھ کر 23.3 فیصد تک پہنچ گئی، اسی طرح سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد، خیبرپختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جبکہ بلوچستان میں غربت 41.8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد تک پہنچ گئی۔
احسن اقبال نے کہا کہ صوبوں کے پاس قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت وسائل میں اضافہ ہوا ہے، تاہم غربت اور پسماندگی کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔



















