کسی بھی معاشرے میں دیانت دار اور اصول پسند افسران ریاست کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اشتیاق اعوان بھی انہی باکردار پولیس افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی عملی زندگی میں ہمیشہ قانون اور انصاف کو مقدم رکھا۔
آج ان کے خلاف جو منفی مہم چلائی جا رہی ہے، وہ دراصل ان کے مضبوط کردار اور بے لاگ طرزِ عمل کا ردِعمل ہے۔
ان کا تعلق ایک باوقار اور معزز خاندان سے ہے۔ ان کے والد خواجہ محمد اعوان مرحوم پاکستان کے ایک نامور سیاستدان رہے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی غریبوں کی خدمت اور عوامی فلاح کے لیے وقف کیے رکھی۔
ان کے دامن پر کبھی کسی بد عنوانی یا بددیانتی کا داغ نہیں لگا۔ لوگ آج بھی انہیں عزت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔
اسی اعلیٰ تربیت اور خاندانی اقدار کا عکس اشتیاق اعوان کی شخصیت میں نمایاں ہے۔ اشتیاق اعوان اس وقت ملیر جیل میں بطور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔
اس سے قبل بھی وہ مختلف جیلوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ جہاں جہاں انہوں نے ڈیوٹی کی، وہاں ان کا کردار مثالی اور ریکارڈ شفاف رہا۔ انہوں نے نظم و ضبط کو بہتر بنایا اور قانون کی عملداری کو یقینی بنایا۔
ملیر جیل میں دورانِ ڈیوٹی جرائم پیشہ عناصر پر ان کا کنٹرول انتہائی مضبوط رہا۔ منشیات فروش اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے لیے ان کی موجودگی ایک بڑی رکاوٹ بن چکی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ مفاد پرست عناصر انہیں ہٹوا کر اپنی مرضی کا افسر تعینات کروانا چاہتے تھے۔
جب وہ اپنے عزائم میں ناکام ہوئے تو کردارکشی کا راستہ اختیار کیا گیا، افسوس کہ کچھ ناسمجھ لوگ صحافت کا لبادہ اوڑھے، کسی کے ایماء پر ان کے خلاف بے بنیاد خبریں چلا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جھوٹے اور منسوب شدہ پیغامات پھیلائے جا رہے ہیں۔ یہ سب ایک منظم مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد ایک ایماندار افسر کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
حالانکہ ان کی بہترین کارکردگی پر افسرانِ بالا کی جانب سے انہیں وقتاً فوقتاً متعدد تعریفی سرٹیفکیٹس بھی دیے جا چکے ہیں۔
ان کی سروس فائل ان کی دیانت، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ مہارت کی گواہ ہے۔ وہ ذاتی اور گھریلو طور پر بھی مالی وسائل سے مستحکم ہیں۔ انہیں کسی ناجائز فائدے یا غیر قانونی سرگرمی کی ہرگز ضرورت نہیں۔
میرا ان سے بھائیوں جیسا تعلق ہے میں انہیں اور ان کی فیملی کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے پورے یقین سے کہتا ہوں کہ ان کا کسی بھی غیر قانونی یا غیر اخلاقی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔
لہٰذا میں اعلیٰ حکام اور افسرانِ بالا سے پرزور درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے۔
حقائق کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ سچ اور جھوٹ واضح ہو سکے اور صحافت کے لبادے میں چھپے ان عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے، جو کسی کے ایماء پر ایک باکردار افسر کی عزت کو مجروح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یقیناً سچائی غالب آئے گی اور اشتیاق اعوان ہر الزام سے سرخرو ہوں گے۔



















