Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پٹرول بم کے بعد کرایہ بم، ملک بھر میں سفر کرنا مزید مہنگا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر تھا، ٹرانسپورٹرز

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد بین الصوبائی اور بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کرایوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث مسافروں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ٹرانسپورٹرز نے نئے کرایوں کا اطلاق کرتے ہوئے فوری طور پر مسافروں سے اضافی کرایہ وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی سے مختلف شہروں کے کرایوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ راولپنڈی سے لاہور کا کرایہ 2480 روپے سے بڑھا کر 3100 روپے کر دیا گیا، جبکہ اوکاڑہ جانے والے مسافروں کے لیے کرایہ 2700 سے بڑھ کر 3750 روپے ہو گیا ہے۔ اسی طرح بہاولنگر کا کرایہ 3000 سے بڑھ کر 4200 روپے مقرر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پشاور کا کرایہ 1000 سے بڑھ کر 1300 روپے ہو گیا ہے، جبکہ طویل فاصلے کے سفر میں راولپنڈی سے کراچی کا کرایہ 8950 روپے سے بڑھا کر 10450 روپے کر دیا گیا ہے۔ ڈی آئی خان جانے والے مسافروں کے لیے کرایہ 3200 سے بڑھ کر 4000 روپے ہو گیا ہے۔

مزید برآں قریبی شہروں کے کرایوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جن میں گجرات کا کرایہ 750 سے بڑھا کر 1100 روپے، چکوال کا 550 سے بڑھا کر 750 روپے، گوجرانوالہ کا 1150 سے بڑھ کر 1500 روپے اور سیالکوٹ کا کرایہ 1400 سے بڑھا کر 1900 روپے کر دیا گیا ہے۔

ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔ تاہم مسافروں نے اس اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کے لیے سفر کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے اور حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں