فافن کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پارلیمانی سال 2025-26 کے دوران خواتین سینیٹرز نے اپنی محدود نمائندگی کے باوجود ایوان میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔
رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی مجموعی رکنیت میں خواتین کا تناسب تقریباً 18 فیصد رہا، تاہم اس کے باوجود ایجنڈے میں ان کا حصہ 20 فیصد تک پہنچ گیا۔
فی کس بنیاد پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو خواتین سینیٹرز مرد ارکان سے آگے نکلتی دکھائی دیں، جہاں خواتین نے اوسطاً 12 جبکہ مردوں نے 11 ایجنڈا آئٹمز جمع کرائے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ پارلیمانی سال کے مقابلے میں خواتین کے ایجنڈے کے حصے میں 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔
مزید برآں، خواتین سینیٹرز کی جانب سے پیش کیے گئے توجہ دلاؤ نوٹسز اور قواعد میں ترمیم کی تجاویز پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی، جبکہ ان کے سوالات اور پرائیویٹ ممبر بلز کو مرد ارکان کے برابر توجہ دی گئی۔
رپورٹ میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ خواتین ارکان بحث و مباحثے میں کم نظر آئیں اور شاذ و نادر ہی بولنے والوں کی فہرست میں شامل ہوئیں، جس کی بڑی وجہ ادارہ جاتی رکاوٹیں قرار دی گئی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ خواتین سینیٹرز نے صرف صنفی مسائل تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ معاشی پالیسی اور قومی سلامتی جیسے اہم موضوعات پر بھی مؤثر آواز اٹھائی۔
حاضری کے لحاظ سے بھی خواتین سینیٹرز مردوں سے آگے رہیں، جہاں انہوں نے اوسطاً 38 نشستوں میں شرکت کی جبکہ مرد سینیٹرز کی اوسط حاضری 34 رہی۔
یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کم تعداد کے باوجود خواتین سینیٹرز ایوان میں اپنی موجودگی مؤثر انداز میں منوا رہی ہیں، تاہم انہیں اب بھی کئی ساختی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔



















