کراچی میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کا آغاز، طلبہ آج اپنا پہلا پرچہ دے رہیں ہیں۔
امتحان سے متعلق تمام تیاریاں مکمل کر لی گئیں جبکہ بورڈ انتظامیہ کی گزارش پر کمشنر آفس میں مانیٹرنگ سیل میں قائم کر دیا گیا ہےجہاں امتحانی پرچوں کی ترسیل کی براہ راست نگرانی کی جائے گی۔
کمشنر کراچی نے امتحانی مراکز کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہےامن و امان کے لیے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بورڈ سے لیٹر جاری کر دیئے گئے۔
سائبر سیکیورٹی کو بھی سوشل میڈیا پر پرچے آؤٹ کرنے والے واٹس اپ گروپ پر نظر رکھنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
اس موقع پر ناظم امتحانات نے سینٹر سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ کسی بھی وجہ سے پہلے دن اپنے امتحانی مرکز نہ پہنچنے والے طلبہ قریبی امتحانی مرکز پر اپنا پرچہ دے سکتے ہیں۔
پہلی شفٹ کے اوقات کار صبح 9:30 سے 12:30 تک کے ہے جس میں دسویں جماعت کے طلبہ اپنا کمپیوٹر کا پرچہ دے رہیں ہیں۔
جبکہ دوسری شفٹ دوپہر 2:30 سے 5:30 بجے تک کی ہے جس میں دسویں جماعت کے جنرل گروپ کا پرچہ لیا جائے گا۔
میٹرک بورڈ آفس سے پرچوں کی ترسیل کا عمل کامیابی سے مکمل، میٹرک بورڈ انتظامیہ کی جانب سے امتحانی پرچہ جات کی ترسیل بورڈ سے لے کر امتحانی مرکز تک لائیو ویڈیو کال پر مانیٹر کیا گیا جس کا مقصد پرچہ لیک ہونے سے روکنا ہے۔
دوسری جانب میٹرک امتحانات سے قبل نجی اسکولز ایسوسی ایشن نے اپنے شدید تحفظات کا ظہار کر دیا۔
نجی اسکولز ایسوسی ایشن کے مطابق آخری وقت تک امتحانی مراکز کی تبدیلی سے طلبہ اور والدین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، امتحان سے محض ایک دن پہلے یعنی 9 اپریل تک امتحانی فارم جمع کیے گئے اور سافٹ ویئر بار بار بند ہونے کی شکایات موصل ہوئی ہیں ان عوامل کے نتیجے میں چار لاکھ طلبہ کو پر سکون امتحانی ماحول میسر نہ ہونے کا خدشہ ہے۔
کسی بھی مرکز پر امتحان کی اجازت نے میٹرک بورڈ کی تیاری پر سوال اٹھا دیے چھوٹے مراکز میں ہزاروں طلبہ کی وجہ سے نقل کے امکانات بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
نجی اسکولز ایسوسی ایشن نے چیئرمین بورڈ کی کارکردگی اور کنٹرولر کی نا تجربہ کاری پر تنقید کرتے ہوئے اسے طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔



















