Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کروڑوں ڈالر خرچ، مگر ویکسین مخالف سوچ میں کمی نہیں آئی، مصطفیٰ کمال

وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ ویکسین سے متعلق عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود عوامی رائے میں ویکسین کے حوالے سے منفی رجحانات میں کمی نہیں آئی۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی سیکرٹری صحت، ڈی جی ہیلتھ اور ڈی جی ایف ڈی آئی نے شرکت کی۔

 اجلاس میں ویکسین سے متعلق آگاہی مہم کے اخراجات اور اس کے حقیقی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے  یونیسف کی  جانب سے ویکسین آگاہی مہم پر کروڑوں ڈالرز خرچ کیے جانے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر ناراضگی  کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ کروڑوں ڈالرز خرچ کرنے  کے باوجود عوامی رائے میں ویکسین کے حوالے سے منفی رجحانات میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی جو کہ تشویش کا باعث ہے۔

وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ آگاہی مہم کا بنیادی مقصد ویکسین سے انکار کرنے والوں کی شرح میں کمی لانا اور عوام میں مثبت رجحانات کو فروغ دینا ہے تاہم موجودہ صورتحال اس مقصد کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

 انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسین کے حوالے سے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ نہایت ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے نام پر خرچ ہونے والے کروڑوں ڈالر دراصل ایک بڑی ذمہ داری ہیں، اور ان فنڈز کا مؤثر اور شفاف استعمال ریاست اور وزارتِ صحت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں، تاہم اب نتائج پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صحت عامہ کا اصل مقصد لوگوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے اور وزارتِ صحت اس حوالے سے خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ ویکسین سے متعلق عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے جس میں شفافیت، احتساب اور مؤثر نتائج کو یقینی بنایا جائے۔

آخر میں وزیرِ صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فنڈز کے درست استعمال کے ذریعے نہ صرف مثبت تبدیلی ممکن ہے بلکہ ویکسین سے متعلق منفی رجحانات کا خاتمہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں