Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران امریکا بالواسطہ مذاکرات: پاکستان کا کلیدی کردار، مکالمہ جاری رکھنے کی کوششیں تیز

ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بجائے بالواسطہ مکالمے کو ترجیح دی ہے۔

اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران بات چیت کا عمل جاری رکھنے کے لیے بالواسطہ مذاکرات کا طریقہ اختیار کرلیا گیا ہے جس میں پاکستان اہم سہولت کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ایران نے داخلی ردِعمل کے باعث امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بجائے بالواسطہ مکالمے کو ترجیح دی ہے جس کے تحت ثالثوں کے ذریعے رابطے برقرار رکھے جارہے ہیں۔

یہ تبدیلی کسی پسپائی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد داخلی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا ہے۔

براہِ راست مذاکرات کا نہ ہونا ناکامی نہیں بلکہ پیچیدہ تنازعات میں یہ ایک عام اور مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے جہاں پیش رفت اکثر بالواسطہ رابطوں سے ہی شروع ہوتی ہے۔

مذاکراتی عمل میں پاکستان کے ساتھ عمان اور روس بھی کردار ادا کررہے ہیں جس سے ایک کثیرالجہتی رابطہ ڈھانچہ تشکیل پایا ہے اور تعطل کے خدشات کم ہوئے ہیں۔

پاکستان اس پورے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو ایک پل کے طور پر پیش کررہا ہے، جہاں غیر جانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان رابطے کو ممکن بنایا جارہا ہے۔

اسی دوران تکنیکی سطح پر ماہرین کے درمیان بات چیت بھی متوازی طور پر جاری ہے جس سے مرحلہ وار پیش رفت کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مذاکراتی عمل سست روی کے باوجود فعال ہے اور ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے جس کا مقصد اعتماد سازی اور مؤقف کو قریب لانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل دونوں فریقین کو داخلی دباؤ کو سنبھالنے اور مستقبل میں ممکنہ براہِ راست مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے جب کہ پاکستان اس تمام عمل میں ایک اہم سہولت کار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں