پاکستان میں دہشتگردی اور بدامنی کے پیچھے بھارتی مکروہ کردار بے نقاب ہوگیا ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی را سے جڑے بھارتی صحافی آدتیہ راج کول نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے لال قلعہ دھماکے کے محض 24 گھنٹے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں خود کش دھماکا کس نے کرایا سب سمجھ سکتے ہیں۔
آدیتہ راج کول کہتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لئے ہماری پہچان کچھ بھی ہوسکتی ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی را کا چہرہ افغانی، بھارتی، بنگلادیشی یا کسی مقامی بلوچ کا بھی ہوسکتا ہے۔
اس سے قبل بھارتی ریٹائرڈ کرنل راجیش پاور نےبھی پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کااعتراف کیا تھا۔
کرنل ریٹائرڈ راجیش پاور کے مطابق فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال کررہے ہیں۔
راجیش پاور کہتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف دونوں دہشت گرد تنظیموں کو مالی امداد بھارت جب کہ ہتھیار اور انٹیلیجنس اسرائیل فراہم کررہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں حملوں سے لے کر کینیڈا اور امریکا میں سکھ رہنماؤں کے قتل تک بھارت ایک دہشت گرد فیکٹری بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی بارہا بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے لیے سہولت کاری کے شواہد پیش کیے جاچکے ہیں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اپنی پراکسیز فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو استعمال کرکے خودکش حملے کروارہی ہے۔ خطہ میں قیام امن کے لئے عالمی برادری بھارت کے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس اور پراکسی نیٹ ورکس کا نوٹس لے۔



















