اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کو چھپانا انتہائی خطرناک عمل ہے کیونکہ یہ بیماری وبا کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی لاعلاج ضرور ہے مگر بروقت اور مسلسل علاج کے ذریعے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ایچ آئی وی کے 84 ہزار رجسٹرڈ کیسز ہیں، جن میں سے 61 ہزار مریض زیر علاج ہیں جبکہ علاج کی سہولت صرف حکومت فراہم کر رہی ہے۔
وزیر صحت کے مطابق اسلام آباد اور تونسہ میں حالیہ عرصے کے دوران کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
فنڈنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلوبل فنڈز نے 2024 سے 2026 کے لیے پاکستان کو 65 ملین ڈالر دینے تھے تاہم جون 2026 میں اس فنڈ کی مدت ختم ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس رقم میں سے صرف 3.9 ملین ڈالر پاکستان کو ملے جبکہ 61 ملین ڈالر UNDP اور ایک نجی این جی او کو منتقل کیے گئے جو ایک تشویشناک معاملہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2020 میں 35 ہزار 944 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 6 ہزار افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔
ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور حالیہ معرکۂ حق کے بعد پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ممکنہ تیسری عالمی جنگ کو روکنے میں بھی کردار ادا کیا۔
آخر میں انہوں نے وزیراعظم اور عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 8 سے 9 ہفتوں میں پاکستان کو جو پذیرائی ملی وہ گزشتہ 100 برس میں نہیں دیکھی گئی۔




















