Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی، اسکول کی چھت سے اچانک گرنے والی بچی کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے سب کو ہلا دیا، حقیقت کیا ہے؟

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ قتلِ خطا کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے

شہر قائد کے علاقے  اورنگی ٹاؤن میں ایک افسوسناک واقعہ نے شہریوں کو غم اور تشویش میں مبتلا کر دیا، جہاں نویں جماعت کی 15 سالہ طالبہ کنزہ اسکول کی عمارت سے گر کر جان کی بازی ہار گئی۔

یہ واقعہ 21 اپریل کو پیش آیا تاہم قانونی کارروائی کا آغاز بعد میں ہوا جب بچی کے والد راجہ مہدی حسن کی مدعیت میں تھانہ اورنگی ٹاؤن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں اسکول کے پرنسپل و مالک حافظ ارشد اور ایک کیمسٹری ٹیچر کو نامزد کیا گیا ہے۔

والد کے مطابق انہیں پہلے اطلاع دی گئی کہ ان کی بیٹی سیڑھیوں سے گر کر زخمی ہوئی ہے، لیکن بعد میں بتایا گیا کہ وہ اسکول کی چھت سے گری تھی، جس نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا۔

زخمی طالبہ کو پہلے قطر اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں حالت بگڑنے پر عباسی شہید اسپتال سے ایک نجی اسپتال لے جایا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ چکی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد بیٹھے ہوئے ہیں کہ اچانک ایک لڑکی اوپر سے گرتی ہے اور وہاں موجود لوگ فوراً اس کی مدد کے لیے بھاگتے ہیں۔

فوٹیج میں کلاس روم کے اندر طلبہ کی موجودگی بھی دیکھی گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن حالات میں بچی چھت تک پہنچی اور حادثہ کیسے پیش آیا۔

مدعی کا مؤقف ہے کہ اسکول انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی اس سانحے کی بنیادی وجہ ہے اور یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹیچر نے بچی کو کلاس سے باہر جانے کی اجازت دی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ قتلِ خطا کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جبکہ نامزد افراد واقعے کے بعد سے لاپتہ ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، اور والدین کی جانب سے اسکولوں میں سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ہر پہلو سے حقائق جاننے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں