یکم مئی، جسے یومِ مزدور کہا جاتا ہے، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد مزدوروں اور محنت کش طبقے کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
مزدور وہ طبقہ ہے جو معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتا ہے مگر بدقسمتی سے اکثر اس کی آواز سنی نہیں جاتی۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی یومِ مزدور منایا جا رہا ہے لیکن محنت کش آج بھی روزگار کی تلاش میں نکلنے پر مجبور ہے اگر دیہاڑی مل جائے تو گھر کا چولہا جلتا ہے ورنہ فاقہ اس کا مقدر بن جاتا ہے۔
“بوجھ کندھوں سے کم کرو صاحب” یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ مزدور کی دل کی آواز ہے جو صرف ایک دن منانے سے حل نہیں ہوسکتی۔
یومِ مزدور کی تاریخ ہیمارکیٹ واقعہ سے جڑی ہے جب 1886 میں شکاگو میں مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کام کے مطالبے پر احتجاج کیا۔ اس تحریک نے دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کو نئی سمت دی۔ بعد ازاں 1890 میں پہلی بار اس دن کو باقاعدہ طور پر منایا گیا اور یہ روایت آج تک جاری ہے۔
آج کے دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے تاہم ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس دن اکثر دفاتر، فیکٹریاں اور کاروباری مراکز بند ہوتے ہیں جس کے باعث دیہاڑی دار مزدور روزی سے محروم رہ جاتے ہیں، یوں مزدور کے بچوں کے لیے یہ دن خوشی کے بجائے بھوک کا پیغام لے کر آتا ہے۔
دوسری جانب حکمران اور بااثر طبقات مزدوروں کے نام پر تقاریب منعقد کرتے ہیں جہاں ان کے حقوق پر بات کی جاتی ہے مگر عملی اقدامات کم نظر آتے ہیں۔
عالمی وبا کووڈ 19 نے مزدور طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا، ہزاروں محنت کش بیروزگار ہوئے اور کئی خاندان معاشی بحران کا شکار ہو گئے اس صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ موجودہ معاشی نظام میں مزدور کے لیے استحکام اور تحفظ کی ضمانت اب بھی ایک بڑا سوال ہے۔
یومِ مزدور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محض تقریبات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہاتھ جو دنیا کو چلاتے ہیں خود بھی عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔



















