امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو عوام کی بڑی تعداد نے قابلِ فخر قومی کامیابی قرار دیا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ ادرے آئی پی ایس او ایس (اپسوس) کے ایک حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق پاکستانی عوام کی اکثریت کا ماننا ہے کہ ان سفارتی اقدامات سے ملک کا عالمی وقار بلند ہوا اور ساکھ میں بہتری آئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 37 فیصد افراد نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی عالمی سطح پر پوزیشن بہتر ہوئی، جبکہ 33 فیصد کے مطابق ملک نے مؤثر اور فعال سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔
علاقائی و عالمی کردار پر رائے دیتے ہوئے سروے میں شامل افراد نے جنگ بندی اور ثالثی کے عمل میں چین کے کردار کو سب سے نمایاں قرار دیا، جسے 58 فیصد حمایت حاصل ہوئی۔ ترکیہ کا کردار 42 فیصد، سعودی عرب کا 31 فیصد اور روس کا 24 فیصد رہا۔
سروے کے مطابق 74 فیصد پاکستانی عوام ثالثی کے دوسرے مرحلے کی کوششوں سے آگاہ ہیں، جبکہ پہلے مرحلے سے 65 فیصد افراد واقف تھے۔
صوبائی سطح پر آگاہی کی شرح خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 84 فیصد رہی، سندھ میں 75 فیصد، پنجاب میں 72 فیصد، بلوچستان میں 71 فیصد اور اسلام آباد میں 77 فیصد عوام اس عمل سے آگاہ پائے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو عوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے اور ملک کی عالمی حیثیت کو مستحکم کرنے میں یہ اقدامات مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔



















