وزیرِاعظم محمد شہباز شریف آج ایک روزہ دورہء گلگت بلتستان کے لیے گلگت پہنچ گئے۔
گلگت پہنچنے پر گورنر سید مہدی شاہ اور نگران وزیرِ اعلی جسٹس (ر) یار محمد نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء احسن اقبال، سردار اویس احمد خان لغاری، عطاء اللہ تارڑ، انجینئیر امیر مقام، عبدالعلیم خان، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں۔
وزیرِ اعظم کی گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور نگران وزیرِ اعلی گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد سے علیحدہ علیحدہ ملاقات ہوئی جس میں گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، صوبائی امن و امان کی صورتحال اور دیگر صوبائی امور پر گفتگو ہوئی۔
بعد ازاں وزیرِ اعظم گلگت بلتستان کے لیے قابل تجدید توانائی (سولر بجلی)، سیف سٹیز، لیپ ٹاپ اسکیم و یوتھ بزنس و ایگری لون اسکیم کا افتتاح اور گلگت بلتستان میں 4 دانش اسکولز کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔
یہ اعلیٰ سطحی وفد مختلف ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور کا جائزہ بھی لے گا۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ماضی میں بھی کئی اہم دورے کیے گئے ہیں۔
وزیرِ اعظم کا یہ دورہ گلگت بلتستان کی مجموعی صورتحال اور گورننس کے معاملات کو بہتر بنانے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے دورہ گلگت بلتستان پر پیپلز پارٹی نے اعتراض کرتے ہوئے الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کو وزیراعظم کی تقریبات میں شرکت سے روک دیا۔
ذرائع کے مطابق کسی انتخابی امیدوار سے وزیراعظم کی ملاقات نہیں ہوگی وزیراعظم الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی مصروفیات انجام دیں گے۔



















