ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر عبرتناک شکست دی۔
پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سینئر افسران کے ساتھ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کو ایک سال گزرنے کے باوجود کئی اہم سوالات آج بھی عالمی برادری، پاکستانی عوام اور خود بھارتی عوام کے سامنے موجود ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا بیانیہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے اور معرکہ حق کے دوران دنیا نے دیکھ لیا کہ خطے میں ذمہ دارانہ کردار کون ادا کر رہا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر پاکستان کی مسلح افواج، بحریہ اور فضائیہ کی کارکردگی اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے فوراً بعد چند ہی منٹوں میں ایف آئی آر درج کر کے یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے، حالانکہ آج تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔
Marka-e-Haq stands as a landmark example of multi-domain operations, with Pakistan successfully fighting on land, sea, air and cyber fronts, re-establishing deterrence loud and clear while remaining fully prepared to combat both traditional and non-traditional threats. -DG ISPR… pic.twitter.com/PgNiDoTKtK
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی انٹیلی جنس اتنی ہی مؤثر اور باخبر تھی تو سینکڑوں کلومیٹر اندر آنے والے افراد کے بارے میں پہلے سے معلومات کیوں نہ مل سکیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وقت بھارتی ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج بھی بین الاقوامی برادری یہی سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعے کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کے عوام کے ساتھ ساتھ بھارت کے باشعور حلقے بھی ان سوالات کے جواب مانگ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے اگلے ہی روز بھارتی وزیر اطلاعات بین الاقوامی میڈیا کو ساتھ لے کر گئے، تاہم اس کے باوجود دنیا کو قابلِ اعتماد شواہد فراہم نہیں کیے جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نمائندے مختلف مقامات اور مساجد تک گئے اور انہوں نے خود یہ سوال اٹھایا کہ آخر حملوں میں کون لوگ نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ متاثرین میں بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری شامل تھے۔
India used Afghan territory as a base against Pakistan, terrorism surged from the Afghan side after Marka-e-Haq. -DG ISPR#DGISPR #PakistanArmy #PakistanNavy #PakistanAirForce #BunyanUmMarsoos #PakistanTV pic.twitter.com/RjIGoLTAIy
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے اگلے ہی روز بھارتی وزیر اطلاعات بین الاقوامی میڈیا کو ساتھ لے کر گئے، تاہم اس کے باوجود دنیا کو قابلِ اعتماد شواہد فراہم نہیں کیے جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نمائندے مختلف مقامات اور مساجد تک گئے اور انہوں نے خود یہ سوال اٹھایا کہ آخر حملوں میں کون لوگ نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ متاثرین میں بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری شامل تھے۔
DG ISPR says Pakistan gave a befitting reply to Indian aggression, adding that the false Indian narrative of labeling Pakistan as a source of terrorism has been buried forever, as the international community now fully recognizes Pakistan as a victim of Indian-sponsored terrorism… pic.twitter.com/MHocxc1OUP
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ بھارت بار بار پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا رہا، لیکن معرکہ حق کے بعد یہ “ڈرامہ” ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب خود دیکھ رہی ہے کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والا کردار کون ادا کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور کشیدگی کو قابو میں رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف خطے کے امن کو مقدم رکھا بلکہ صورتحال کو مزید خطرناک ہونے سے بھی روکا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ کشیدگی کو کنٹرول کرنے اور خطے کو مستحکم رکھنے میں پاکستان نے ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا، جبکہ بھارت جذباتی بیانات، سیاسی مقاصد اور اشتعال انگیز رویوں کے ذریعے پورے خطے کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرتا رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت خود کو خطے کا “نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا، تاہم معرکہ حق کے دوران عالمی برادری نے حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔
ڈی جی آئی ایس پی آراحمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ اگر آج بھی خطے میں استحکام کے لیے سب سے زیادہ کوئی ملک کوشش کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے۔
DG ISPR Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry, accompanied by senior officers of the Pakistan Navy and Pakistan Air Force, holds news conference marking the first commemoration of Marka-e-Haq.#ISPR #DGISPR #LtGenAhmedSharifChaudhry #PakistanArmy #BunyanUmMarsoos #PakistanTV pic.twitter.com/RaxxsIva5x
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت کی نام نہاد پیشہ ورانہ عسکری سوچ کی کئی مثالیں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے ایسے بیانات دیے گئے جو ایک پیشہ ور فوجی رویے کے بجائے سیاسی نوعیت کے دکھائی دیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی فوجی قیادت اپنے سیاسی بیانیے کو فوجی اداروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے پورے عرصے کے دوران مکمل پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کے کسی افسر نے کبھی سیاسی قیادت کے بیانات کو بنیاد بنا کر اشتعال انگیز طرزِ گفتگو اختیار نہیں کیا، جبکہ بھارتی سیاست دانوں کے بیانات اکثر جنگی ماحول پیدا کرنے والے محسوس ہوتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز نعرے اور جارحانہ بیانات سامنے آتے رہے، لیکن پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ داری، تحمل اور پیشہ ورانہ انداز اپنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر بھارت کو کسی معاملے پر اعتراض یا اختلاف ہے تو اسے اشتعال انگیز بیانات کے بجائے براہِ راست اور ذمہ دارانہ انداز میں بات کرنی چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کو اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے، لیکن وہ ان مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ دنیا کے سامنے ہے۔ ان کے مطابق منی پور اور دیگر علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک رہی، تاہم ان مسائل کے باوجود بھارت مسلسل پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے، جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، قانونی تبدیلیاں کرنے اور دیگر اقدامات کے باوجود کشمیر کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت کو اپنے داخلی اور خارجی مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ دہشت گردی کے بیانیے کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مختلف واقعات کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ بعض اوقات اپنے ہی ملک میں پیش آنے والے واقعات کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ بھارت طویل عرصے سے اسی طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق اور بنیان مرصوص کے دوران جدید جنگ کے مختلف پہلوؤں کا عملی تجربہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج کی جنگ صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک کثیر جہتی جنگ بن چکی ہے، جو فضا، زمین، سمندر، سائبر، اطلاعات اور انسانی ذہنوں تک پھیل چکی ہے۔
ان کے مطابق اس نوعیت کی جنگ کے اثرات شہروں، دیہاتوں، گلیوں اور عام شہریوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیار ہی نہیں بلکہ معلومات، بیانیہ اور ذہنی سطح پر اثرانداز ہونے کے حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے ان تمام چیلنجز کا سامنا کیا اور ہر میدان میں تیاری اور مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی تیار تھا، دورانِ معرکہ بھی مکمل طور پر متحرک رہا اور اب بھی ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران واضح پیغام دیا کہ ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور دشمن کی کسی بھی کارروائی کا مؤثر اور فوری جواب دیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کا یہ مؤقف آج بھی پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی سازش یا جارحیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے معاملے میں متحد اور مضبوط ہے، اور عالمی سطح پر بھی اس مؤقف کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے دنیا کو یہ دکھایا کہ ملک، افواج، قیادت اور عوام ایک صفحے پر کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کو یہ شک تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر متحد نہیں، تاہم حالات نے ثابت کر دیا کہ بچے سے لے کر بزرگ تک، غریب سے لے کر امیر تک، کشمیر سے گوادر تک پوری قوم ایک ہو کر کھڑی رہی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ قومی اتحاد اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے، جس پر پوری قوم شکر گزار ہے۔ ان کے مطابق معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر اس پورے عرصے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ پاکستان نے کن حالات کا سامنا کیا اور خطے میں کیا صورتحال رہی۔
انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مشرقی ہمسایہ ملک بھارت اس دوران کس طرزِ عمل اور حکمت عملی پر عمل کرتا رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت کے اندر سیاسی، عسکری اور سماجی سطح پر بڑھتے ہوئے مسائل واضح ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہاں اقلیتوں کے ساتھ ریاستی رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور مختلف طبقات میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات مختلف مذہبی برادریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، جس پر اندرونی اور بیرونی سطح پر بحث جاری رہتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے اندرونی حالات اور سماجی تقسیم وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہو رہی ہے، جس کے اثرات اس کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ رہے ہیں۔
ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف آپریشنز ریئر ایڈمرل شفاعت علی
اس موقع پر ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف آپریشنز ریئر ایڈمرل شفاعت علی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بھارت کواپنی بحری طاقت پربہت نازتھا بھارتی بحریہ ہرطرح سےلیس تھی مگرجارحیت کی ہمت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نےبحری بیڑاتعینات کرنےکی کوشش کی ہماری ساحلی تنصیبات محفوظ رہیں،بندرگاہیں فعال رہیں ہم امن کےخواہا ہیں لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھاجائے امن ہویاجنگ ہم اپنی خودمختاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
ایئر وائس مارشل طارق محمود غازی
اس موقع پر ایئر وائس مارشل طارق محمود غازی نے بتایا کہ ہم نےٹرائی سروس پلانزکی گائیڈنس طےکیا ایئرفورس نے پہلی بارملٹی ڈومین آپریشنز کوانٹیروگیٹ کیا پاک فضائیہ دشمن کی ہرسرگرمی کونوٹ کررہی تھی بھارت کو اپنی فورس کوری الائن کرناپڑا۔
ڈپٹی چیف آف ایئراسٹاف انہوں نے کہا کہ ہم نے بارڈرپر مضبوط سیف گارڈرکھاہواتھا دشمن ہمارےبارڈرکےقریب آنےکی جرات نہیں کرسکتا تھا ہم دشمن کےڈیجیٹل فٹ پرنٹ کومانیٹرکررہےتھے 29 اپریل کو 4 رافیل طیاروں نےکشمیر ریجن میں داخلےکی کوشش کی ہم نےفوری کارروائی کرتے ہوئےدشمن کو بھاگنے پر مجبورکردیا۔
ڈپٹی چیف آف ایئراسٹاف نے یہ بھی کہا کہ پی اےایف سائبرفورس نےبھارت کےڈیٹاسینٹرزکوٹارگٹ کیا پاک فضائیہ نےبھارت کے7جہاز گرائے ہم نےبھارت کا ایک بغیرپائلٹ طیارہ بھی گرایا اب ہمیں پہلی بارکہناپڑےگاکہ ہمارا اسکور0-8ہے۔



















