کراچی: رینجرز اور واٹر کارپوریشن نے غیر قانونی سب سوائل نیٹ ورک کے خلاف کامیاب کارروائی کی جس دوران پانی چوری کا بڑا انکشاف ہوا۔
کراچی میں پانی چوری کے خلاف جاری مہم کے دوران ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی مرکزی لائن سے میٹھے پانی کی چوری کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔
یہ کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر پاکستان رینجرز اور واٹر کارپوریشن کی مشترکہ ٹیم نے انجام دی جس میں غیر قانونی سب سوائل نیٹ ورک کے ذریعے پانی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر ایکشن لیا گیا۔
واٹر کارپوریشن حکام کے مطابق لسبیلا پل کے نیچے واقع واٹر کارپوریشن کی 33 انچ قطر کی مرکزی لائن (نیو SBL/CTM) کے قریب غیر قانونی سب سوائل نیٹ ورک کی آڑ میں میٹھے پانی کی چوری کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔
حکام نے بتایا کہ اس اطلاع پر سب سوائل مینجمنٹ ٹیم اور اینٹی تھیفٹ سیل نے پاکستان رینجرز کے ہمراہ فوری کارروائی کرتے ہوئے شکیل مہر اور ابراہیم کے زیر استعمال تین مشتبہ سب سوائل نیٹ ورکس کی مکمل تلاشی لی۔
کارروائی کے دوران پہلے نیٹ ورک پر ایک 50 فٹ گہرے واٹر ٹینک کے نچلے حصے میں ایک خفیہ سرنگ دریافت ہوئی جو براہ راست واٹر کارپوریشن کی مرکزی لائن سے منسلک تھی۔
اس سرنگ میں 80 ہارس پاور کی ہائی سکشن مشین نصب کی گئی تھی جب کہ اس کے ساتھ 4 انچ قطر کی پائپ لائن بھی لگی ہوئی تھی جس کے ذریعے میٹھا پانی غیر قانونی طور پر حاصل کیا جارہا تھا۔ واٹر کارپوریشن حکام نے موقع پر ہی پانی کے نمونے حاصل کیے جن کا ٹی ڈی ایس 450 ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ سطح واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذکورہ پانی سب سوائل کا نہیں بلکہ صاف میٹھا پانی ہے جو براہ راست واٹر کارپوریشن کی مرکزی لائن سے چوری کیا جارہا تھا۔
مزید تصدیق کے لیے پانی کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے جس کے بعد متعلقہ سب سوائل نیٹ ورک کو فوری طور پر سیل کردیا گیا، بعد ازاں واٹر کارپوریشن ایکٹ کے تحت ملزمان شکیل مہر اور ابراہیم کے خلاف واٹر کارپوریشن تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جب کہ مزید قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔
دیگر دو سب سوائل نیٹ ورکس سے بھی پانی کے نمونے حاصل کیے گئے تاہم ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہاں سے میٹھے پانی کی چوری کے شواہد نہیں مل سکے۔
خیال رہے کہ مذکورہ سب سوائل نیٹ ورک سب سوائل ایسوسی ایشن کے صدر شکیل مہر کی ملکیت اور زیرِ انتظام ہے۔ وہ نہ صرف سب سے زیادہ لائسنسز اور بورز کے مالک ہیں بلکہ واٹر کارپوریشن کے بڑے نادہندگان میں بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق انہوں نے گزشتہ پانچ ماہ سے واجبات ادا نہیں کیے جس کے باعث ان پر تقریباً 10 کروڑ روپے کی خطیر رقم واجب الادا ہے۔
واٹر کارپوریشن حکام کا کہنا تھا کہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں شہر بھر میں پانی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ ایسے عناصر جو شہریوں کے حق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ عوام کو ان کے حصے کا پانی منصفانہ اور شفاف انداز میں فراہم کیا جاسکے۔



















