Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آئی ایم ایف کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق بڑا مطالبہ

آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے

آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک لین دین کی نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ کردیا۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے غیر ٹیکس شدہ اور کالے دھن کا بڑا حصہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں لگائے جانے اور مشکوک مالی لین دین کی رپورٹنگ کی کم تعداد ہونے پرتشویش اظہار کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اوربینیفیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے سے متعلق خامیوں کو ختم کیا جائے۔

 سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے تحت پاکستان کے لیے لیے 1.1 ارب ڈالر کی چوتھی قسط جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ نامزد غیر مالیاتی کاروباری اداروں اور پیشوں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی تعداد انتہائی کم ہے، جبکہ یہ تاثر عام ہے کہ ملک میں ٹیکس چوری کا پیسہ اور غیر قانونی دولت رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کھپائی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایف بی آر  نے حال ہی میں فروخت اور آمدنی چھپانے کے الزامات پر رئیل اسٹیٹ کی دو بڑی سوسائٹیوں پر چھاپے مارے ہیں۔

ایف بی آر کے تحت رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی نگرانی کے لیے ڈی این ایف بی پی ایک نظام قائم کیا تھا ڈی این ایف بی پی کے تحت مشکوک لین دین کی رپورٹس ایف ایم یو کو بھیجی جاتی ہیں تاہم آئی ایم ایف نے ڈی این ایف بی پی کے  اس نظام کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔

متعلقہ خبریں