Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بحریہ ٹاؤن کراچی کو بڑا دھچکا، ملک ریاض کی ذاتی رہائش کے لیے تعمیر حویلی منجمد

نیب نے ملک ریاض حسین کی ذاتی رہائش کے لیے تعمیر کی گئی ایک بڑی حویلی منجمد کر دی

نیب کراچی نے اپنی حالیہ کارروائی میں بحریہ ٹاؤن کراچی کو بڑا دھچکا دے دیا ہے بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف جاری اقدامات کے سلسلے میں نیب نے ملک ریاض حسین کی ذاتی رہائش کے لیے تعمیر کی گئی ایک بڑی حویلی منجمد کر دی ہے، جو ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر “علی ولا” کے طور پر بحریہ ہلز، بحریہ ٹاؤن کراچی میں واقع ہے اور 67 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔

علی ولا بحریہ ٹاؤن کراچی کے پہاڑی علاقے میں تعمیر کی گئی ہے اور اس میں جدید ترین سہولیات موجود ہیں جن میں ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز وغیرہ شامل ہیں۔

مزید برآں دو نئی انکوائریوں میں نیب نے 1338 ایکڑ اراضی بھی منجمد کر دی ہے جس پر الزام ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔

اس زمین پر بحریہ گرینز اور مختلف پریسنکٹس 33، 34، 38 تا 40، 42 اور 61 وغیرہ تعمیر کیے جانے تھے، جبکہ یہ اراضی حکومتِ سندھ کی ملکیت ہے۔

اسی طرح نیب نے بحریہ ٹاؤن 2 کی مکمل 3150 ایکڑ زمین بھی منجمد کر دی ہے جسے مبینہ طور پر ایم ایس پیراڈائز ریئل اسٹیٹ پرائیویٹ لیمیٹڈ نے دھوکہ دہی کے ذریعے خریدا تھا یہ حکم ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی جانب سے ایک علیحدہ آرڈر کے ذریعے جاری کیا گیا۔

بحریہ ٹاؤن 2 بھی دوبارہ محکمہ جنگلات کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے مذکورہ منجمدی احکامات میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو کسی تیسرے فریق کو حقوق منتقل کرنے سے روکیں۔

نیب پہلے ہی احتساب عدالت کراچی میں ریفرنس نمبر 1/2025 دائر کر چکا ہے جس میں ضلع ملیر کی 17,672 ایکڑ سرکاری زمین کی غیر قانونی اور ناجائز تبدیلی و خردبرد کے الزامات شامل ہیں جس کی مالیت 708 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ الزام ہے کہ یہ سب حکومتِ سندھ کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہوا اور اسی زمین پر ایم-9 موٹروے کے قریب بحریہ ٹاؤن کراچی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا۔

متعلقہ خبریں