Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

2050 تک پاکستان کی آبادی کتنی ہوجائے گی؟ نئی رپورٹ جاری

2023 میں ملک کی آبادی 24 کروڑ 15 لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی۔

پاکستان میں قومی اور صوبائی سطح پر آبادی کے تخمینوں سے متعلق نئی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق ملک کی آبادی 2023 کے 24 کروڑ 15 لاکھ سے بڑھ کر 2050 تک تقریباً 38 کروڑ 99 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں پہلی بار صوبائی سطح پر اندرونی ہجرت کے اعدادوشمار کو بھی شامل کیا گیا ہے جب کہ رپورٹ کے مطابق اگر آبادی میں تیزی سے کمی کا منظرنامہ سامنے آیا تو 2050 تک پاکستان کی مجموعی آبادی 37 کروڑ 19 لاکھ رہ سکتی ہے۔

آبادی کے تخمینے 2023 سے 2050 تک ڈی اے پی پی ایس نظام کے تحت تیار کیے گئے جب کہ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے اعدادوشمار کو بنیاد بنایا گیا۔

صوبائی سطح پر جاری تخمینوں کے مطابق پنجاب کی آبادی 2023 کے 12 کروڑ 77 لاکھ سے بڑھ کر 2050 تک تقریباً 20 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے جب کہ سندھ کی آبادی 9 کروڑ 11 لاکھ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی طرح خیبر پختونخوا کی آبادی 2050 تک 6 کروڑ 76 لاکھ اور بلوچستان کی آبادی تقریباً ڈھائی کروڑ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اسلام آباد کی آبادی بھی نمایاں اضافے کے ساتھ 24 لاکھ سے بڑھ کر 65 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادی کے تخمینوں کے لیے شرح پیدائش، شرح اموات اور اندرونی ہجرت کو بنیادی عوامل کے طور پر شامل کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق ملک میں شرح پیدائش 2023 کی 28.3 سے کم ہوکر 2050 تک 16.8 رہنے کی توقع ہے جب کہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے سے شرح اموات میں معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔

اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 11 کروڑ 79 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 97 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے جب کہ کام کرنے کی عمر رکھنے والی آبادی 13 کروڑ 52 لاکھ سے بڑھ کر 25 کروڑ 54 لاکھ ہونے کی پیش گوئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نوجوانوں کی تعداد 2023 کے 6 کروڑ 29 لاکھ سے بڑھ کر 2050 تک تقریباً 10 کروڑ ہوسکتی ہے جب کہ 65 سال سے زائد عمر افراد کی تعداد 86 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 26 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبادی میں یہ بڑی تبدیلیاں صحت، تعلیم، روزگار اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں نئی پالیسیوں کی متقاضی ہوں گی۔

متعلقہ خبریں