ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں مسلسل کمی کے باعث آئی ایم ایف نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کا مطالبہ کردیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس ریونیو میں مسلسل کمی کے باعث عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کا مطالبہ کردیا۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مطابق ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے ریونیو ایڈمنسٹریشن ریفارمز پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ترجیحی شعبوں میں اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ٹیکس گزاروں کے آڈٹ کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور اب آڈٹ کے لیے کیسز کا انتخاب سینٹرلائزڈ سسٹم کے تحت کیا جائے گا اس کے علاوہ اگست 2026 تک نئی آڈٹ پالیسی اور آڈٹ مینول تیار کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے نے ڈیجیٹل انوائسنگ کے دائرہ کار میں توسیع اور مستقبل میں اس کے استعمال کو لازمی قرار دینے کا عندیہ دیا ہے جبکہ پیداواری عمل کی نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق ریٹیلر ٹیکس رجسٹریشن اسکیم کو فعال بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اس کے ساتھ نان فائلرز کے لیے بڑی مالیت کی مخصوص مالی ٹرانزیکشنز پر پابندی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس کو مئی کے آخر تک مکمل طور پر فعال بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مستقبل کی ٹیکس اصلاحات کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کی جائیں گی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے مکمل ثمرات مالی سال 2027 میں سامنے آنے کی توقع ہے تاہم طویل مدتی ٹیکس پالیسی کے استحکام کے لیے اصلاحات کا محتاط جائزہ لیا جاتا رہے گا۔



















