Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بلوچستان کی ایک اور بیٹی، کانسٹیبل شکیلہ بلوچ، انڈین پراکسی کی نذر

تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ کو فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے شہید کردیا۔

کوئٹہ: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اور اس کے دہشت گرد پراکسی نیٹ ورکس اب خواتین اور بچوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔

بلوچستان کے علاقے تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ کو فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ڈیوٹی پر جارہی تھیں۔

یہ حملہ صرف ایک ذمہ دار خاتون  پر نہیں بلکہ بلوچستان کی ان بہادر خواتین پر حملہ ہے جو عوام کے تحفظ کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑی ہیں۔

فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچی روایات، غیرت اور خواتین کے احترام کو پامال کرتے ہوئے نہ صرف ایک خاتون پولیس اہلکار کو شہید کیا بلکہ معصوم بچے اور شوہر کو بھی زخمی کردیا۔

⁠یہ حملہ بلوچ معاشرتی اقدار کے منہ پر طمانچہ ہے جب کہ بلوچستان کی بیٹیوں کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ نیا نہیں۔ اس سے قبل شہید ملک ناز بھی انہی دہشت گرد عناصر کی بربریت کا نشانہ بنیں۔

آج ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ یہ گروہ صرف خوف، خونریزی اور بیرونی ایجنڈے کا ہتھیار ہے، نام نہاد انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اور بی وائی سی جیسے پلیٹ فارمز کی مجرمانہ خاموشی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

⁠جب بلوچ خواتین، پولیس اہلکار اور معصوم بچے دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تو یہی عناصر دانستہ خاموش رہتے ہیں کیونکہ ان کے بیانیے میں دہشت گرد کی مذمت کی کوئی جگہ نہیں۔

بی وائی سی اور دہشت گرد پراکسی بیانیہ  مسلسل سیکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کے خلاف  صرف نفرت پھیلاتے ہیں۔ دہشتگردی کی سیاسی و اطلاعاتی سہولت کاری بھی اتنا ہی سنگین جرم ہے جتنا خود دہشت گرد حملہ۔

بلوچستان پولیس کی خواتین اہلکار آج ریاستی عزم، بہادری اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں۔ ⁠لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ  کی قربانی اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے سامنے جھکنے والے نہیں۔

بلوچستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے عناصر نہ بلوچ ہیں، نہ قومی بلکہ بیرونی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد ہیں جو بلوچستان کو عدم استحکام کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں