وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے طیارے نے اسلام آباد کے نور خان ائیربیس پر لینڈ کیا جہاں صدرآصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی صدر کا استقبال کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطاتارڑ، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو بھی موجود تھے۔
ایرانی صدر جس طیارے پر پاکستان آئے ہیں اس کا نام میناب ایران میں سکول پر حملے میں شہید بچوں کے نام پر رکھا گیا ہے، ایرانی صدر کا جنگ کے بعد کسی بھی ملک کا یہ پہلا دورہ ہے، ان کے ساتھ پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی آئے ہیں۔
ایرانی صدر کو فضائیہ کے جے ایف 17 اور 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہے جس میں وزراء اور دیگر سینئر حکام شامل ہیں۔
دورے کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جب کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ بھی اہم مذاکرات ہوں گے۔
اس موقع پر ایران اورامریکا کے درمیان پاکستانی ثالثی پروزیراعظم شہبازشریف کاشکریہ اداکیاجائے گا۔
چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیراعظم بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے جس میں باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ایرانی صدر کے ہمراہ آنے والے وفد میں وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہوں گے جو دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔
مسعود پزشکیان کا ایران کے صدر کی حیثیت سے پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہوگا جسے دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان اور ایران کی قیادت باہمی تعاون کے نئے مواقع پر غور کرے گی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد جاری سفارتی روابط پر تبادلہ خیال ہوگا اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہم امور پر پاکستان اور ایران مشاورت کریں گے، پاکستان اور ایران خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے عزم کا اعادہ کریں گے۔
ایرانی صدر کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا عکاس ہے، بارڈر سکیورٹی سمیت دیگر امور زیر غور آئیں گے۔



















